تہران (سب نیوز)ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز پر کیے گئے خوفناک حملوں کے بعد امریکی حکام مایوسی کے عالم میں میدانِ جنگ کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔اپنے ایک بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی حکام یقینی طور پر سمجھتے ہیں کہ متناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہوچکا ہے جبکہ حالیہ کارروائیوں کے دوران امریکی اڈوں پر ایران کے حملے صرف ابتدا تھے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق اگر امریکا نے اب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھا تو اسے بہت دیر ہونے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے اصول تبدیل ہوچکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب ایران کی سکیورٹی اور اثاثوں کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب پہلے سے زیادہ تیزی، شدت اور تکلیف دہ انداز میں دیا جائے گا۔قالیباف نے امریکی حکام کی جانب سے میدانِ جنگ سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کے حوالے سے بھی الزام عائد کیا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز پر کیے جانے والے خوفناک حملوں کے باعث مایوسی کا شکار ہیں اور اپنے بے معنی اور کھوکھلے نعروں کے ذریعے صورتِ حال کو پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں کو متناسب ردعمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول متناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہوچکا ہے۔واضح رہے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے یہ بیانات ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
