اسلام آباد (آئی پی ایس )سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اکبر بگٹی کے کردار، ریاست کے ساتھ ان کے مسلح تصادم اور انہیں شہید قرار دیے جانے کے بیانیے پر سوالات اٹھائے ہیں۔انوار الحق کاکڑ نے گفتگو کے دوران اکبر بگٹی کے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا، جس میں بگٹی نے دعوی کیا تھا کہ ایف سی کے ساتھ ایک جھڑپ میں ان کے 13 افراد مارے گئے جبکہ ان کی جانب سے 35 فوجی ہلاک کیے گئے۔ کاکڑ نے سوال اٹھایا کہ جو شخص جنگ کی کیفیت میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر رہا ہو،
اسے محض مزاحمتی رہنما کے طور پر کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟انوار الحق کاکڑ کے مطابق اس بحث کو جذبات کے بجائے پورے پس منظر اور تنازع کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔کاکڑ نے اکبر بگٹی کے سیاسی اور قبائلی کردار کے دوسرے پہلوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ناقدین کے مطابق بگٹی ایک طاقتور قبائلی سردار تھے جنہوں نے اختلافِ رائے کو دبانے اور قبائلی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے سخت طرزِ عمل اختیار کیا۔ ان پر مخالف قبائل، خصوصا کلپر اور مسوری گروہوں کے لوگوں کو بے دخل کرنے، نجی حراستی مراکز رکھنے اور کم عمری میں قتل کا اعتراف کرنے جیسے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
