ہومبریکنگ نیوزبھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستان

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستان

اسلام آباد /نئی دہلی (آئی پی ایس )امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے اور اس معاہدے کے حوالے سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے، خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار دریاں کو سیاسی دبا کے لیے استعمال کرنے کی کوشش جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

رضوان سعید شیخ نے امریکی جریدے نیوزویک میں شائع اپنے مضمون میں امریکا میں بھارتی سفیر برائے امریکا ونے موہن کواترا کے اس مضمون کا جواب دیا ہے جس میں انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو پاکستان کی جانب سے طویل عرصے تک کمزور کیے جانے اور بھارت کے اسے التوا میں رکھنے کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔پاکستانی سفیر نے بھارتی مقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی مسلسل معاہدے کی تاریخ، ساخت اور مقصد کو مسخ کرکے اپنی یکطرفہ کارروائی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو ایک عشرے پر محیط مذاکرات کے بعد طے پایا تھا اور عالمی بینک نے ان مذاکرات میں سہولت فراہم کی تھی۔ یہ معاہدہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر کسی احسان یا رعایت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک باقاعدہ قانونی تصفیہ تھا، جس کا مقصد دریائے سندھ کے نظام کے پانیوں کے استعمال سے متعلق واضح، قابلِ عمل اور پابند حقوق و ذمہ داریاں متعین کرنا تھا۔پاکستانی سفیر کے مطابق معاہدے نے بالائی اور زیریں دریائی ملک کے درمیان یکطرفہ اختیار کی جگہ باقاعدہ قانونی ضابطہ قائم کیا،

جس سے پانی کے استعمال میں یقینی، پیش بینی اور استحکام پیدا ہوا۔ معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاں راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا جبکہ پاکستان کے حقوق دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت مغربی دریاں کے پانیوں پر محفوظ کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس انتظام کو بنیادی طور پر غیر منصفانہ قرار دینا ان حالات اور مذاکراتی عمل کو نظرانداز کرنا ہے جن کے نتیجے میں معاہدہ وجود میں آیا۔ پاکستان نے مشرقی دریاں پر اپنی تاریخی انحصاری حیثیت سے دستبرداری اختیار کی اور اپنے آبپاشی نظام کو نئے انتظام کے مطابق ڈھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر متبادل منصوبے بھی مکمل کیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔