پاکستان اور یوگنڈا کے تجارتی تعلقات کو سفارتی روابط سے آگے لے جانا ہوگا: سردار طاہر محمود
اسلام آباد: یوگنڈا نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو زراعت، معدنیات، توانائی، سیاحت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ٹیکس مراعات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہِ راست کاروباری روابط کے فروغ کے لیے پاکستان-یوگنڈا بزنس فورم کے قیام اور پاکستانی کاروباری وفد کو اکتوبر میں یوگنڈا کے دورے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔
یہ بات یوگنڈا کے ناظم الامور ماتاتا توہا نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) میں ہفتہ کے روز منعقدہ ایک انٹرایکٹو بزنس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ یوگنڈا پاکستانی کاروباری برادری کو سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے، پیداواری مراکز کا دورہ کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تجارتی روابط قائم کرنے میں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یوگنڈا کے درمیان دیرینہ سفارتی تعلقات موجود ہیں، تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ان مضبوط تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یوگنڈا کی Economic and Commercial Diplomacy Strategy 2025 کے تحت اس کی سفارتی نمائندگیوں کو دوست ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری وفود اور اقتصادی تعاون کے فروغ کا واضح مینڈیٹ دیا گیا ہے۔
انہوں نے پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو اکتوبر میں ایک ہفتے کے لیے یوگنڈا کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ وفد کے لیے بزنس فورم کے ساتھ ساتھ چائے، کافی، کوکو، کپاس اور دیگر زرعی اجناس کے فارمز اور پیداواری مراکز کے دورے کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری افراد مقامی پروڈیوسرز سے براہِ راست ملاقات، مصنوعات کے معیار کا جائزہ اور ان کی تجارتی صلاحیت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔
ماتاتا توہا نے تجویز دی کہ آئی سی سی آئی اور یوگنڈا چیمبر آف کامرس کے درمیان چیمبر ٹو چیمبر رابطے کا مستقل میکنزم قائم کیا جائے، جس کے تحت کاروباری معلومات کا تبادلہ، مفاہمت کی یادداشتوں کے مسودوں کا تبادلہ اور بعد ازاں ادارہ جاتی تعاون کو باضابطہ شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں سے کسی ایک ملک میں پہلی پاکستان-یوگنڈا تجارتی نمائش کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے، جس سے برآمد کنندگان، درآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو براہِ راست کاروباری روابط قائم کرنے کا موقع ملے گا۔
۔
آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کے افریقہ کے ساتھ تعلقات اب صرف سفارتی خیرسگالی تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ انہیں تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور باہمی خوشحالی پر مبنی متحرک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ دستیاب تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں یوگنڈا کے لیے پاکستان کی برآمدات تقریباً 4 ملین ڈالر جبکہ درآمدات تقریباً 9.3 ملین ڈالر رہیں، جس سے دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 13.2 ملین ڈالر بنتا ہے۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان یوگنڈا کو چاول، ادویات، ٹیکسٹائل، سرجیکل و طبی آلات، کھیلوں کا سامان اور انجینئرنگ مصنوعات برآمد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ یوگنڈا سے کافی، چائے، کپاس اور دیگر زرعی اجناس درآمد کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تجارتی امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے نجی شعبے کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان کے یوگنڈا میں ڈپٹی ہائی کمشنر بلال محسن نے کہا کہ پاکستان اور یوگنڈا کی کاروباری برادریوں کو قریب لانے کے لیے گزشتہ چند ماہ سے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری تھی، جس کے نتیجے میں موجودہ رابطہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یوگنڈا مختلف منصوبوں کے لیے 10 سالہ ٹیکس ہالیڈے فراہم کرنے کی پیشکش کر رہا ہے، جبکہ گرین فیلڈ سرمایہ کاری کے لیے ٹیکس مراعات 25 سال تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔
سابق صدر آئی سی سی آئی اور چیئرمین آئی سی سی آئی قائمہ کمیٹی برائے سفارتی امور ظفر بختاوری نے کہا کہ آئی سی سی آئی پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی روابط کا مسلسل حامی رہا ہے اور ہر سال افریقہ ڈے کا انعقاد کرکے افریقی ممالک کے سربراہانِ مشنز اور پاکستانی پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور کمپالا کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے کے امکانات تلاش کرنے اور یوگنڈا کی جانب سے اسلام آباد میں سفارتی مشن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ چیمبر ٹو چیمبر اور عوامی سطح کے مستقل روابط پاکستان اور یوگنڈا کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی پائیدار اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے پاکستان اور یوگنڈا کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا اور کہا کہ نجی شعبے کے درمیان مسلسل رابطوں سے دونوں ممالک کے کاروباری تعلقات کو نئی وسعت دی جا سکتی ہے۔
اجلاس میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، عمران منہاس، ذوالقرنین عباسی، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، آئی سی سی آئی ممبر ضیاء عباسی اور کاروباری برادری کے دیگر اراکین نے بھی شرکت کی۔
