اسلام آباد: پمزاسپتال نرسری میں آتشزدگی واقعے کے بعد وزیراعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا،اجلاس میں متعلقہ حکام کوشرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم لاہور سے ویڈیو لنک پر اجلاس کی صدارت کریں گے،وزیر اعظم شہبازشریف نے وفاقی وزیرصحت کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی ہے ۔
وزیر اعظم نے مزید ہدایت دی ہے کہ وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال پمزاسپتال جا کر صورتحال کا جائرہ لیں اور رپورٹ پیش کریں ۔وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر صحت کچھ دیر میں کراچی سے روانہ ہوں گے۔
وفاقی وزیر صحت کا کیا کہنا ہے؟
وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ چھٹی کے باوجود پمز میں عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا، پمزنرسری میں آگ لگنے کے بعد بجلی چلی گئی تھی۔
متعلقہ حکام والدین کےساتھ رابطے میں ہیں، ڈی جی ہیلتھ اورسیکریٹری پمز میں موجودہیں، ایگزیکٹیوڈائریکٹر پمز بھی مجھ سے رابطے میں ہیں، میں خود بھی کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہاہوں۔
والدین کا ردعمل
دوسری جانب والدین نے الزام لگایا کہ ہم ہتھوڑوں سے شیشے توڑ کر وارڈ کے اندر داخل ہوئے ،تمام عملہ بھاگ گیا تھا۔ہمیں صرف یہ بتایا گیا کہ بچے جاں بحق ہو گئے ہیں، یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا، ہمارے بچے غائب کیے گئے، ہم میں سے کسی نے بچے کے کپڑے بھی نہیں دیکھے، ہمیں یقین آنا چاہیے کہ ہمارے بچے جھلس کر ہی مرے ہیں۔
ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ ایک گھنٹے تک کوئی بھی ڈاکٹر یا عملہ نہیں آیا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آگ لگے تو کسی اور وارڈ میں کسی ایک بھی شخص کو خراش تک نہیں آئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ بچے لواحقین کے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔
