ہومپاکستاناکادمی ادبیات کے زیرِ اہتمام معروف ویتنامی انقلابی رہنما، شاعر اور جدید ویتنام کے بانی ہو چی من کی شعری کتاب قیدی کی ڈائری کے اردو ترجمے کی تقریبِ رونمائی

اکادمی ادبیات کے زیرِ اہتمام معروف ویتنامی انقلابی رہنما، شاعر اور جدید ویتنام کے بانی ہو چی من کی شعری کتاب قیدی کی ڈائری کے اردو ترجمے کی تقریبِ رونمائی

اسلام آباد (سب نیوز) اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام معروف ویتنامی انقلابی رہنما، شاعر اور جدید ویتنام کے بانی ہو چی من کی شعری کتاب قیدی کی ڈائری کے اردو ترجمے کی تقریبِ اجرا شیخ ایاز کانفرنس ہال، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

تقریب میں تھائی لینڈ،ملائشیا،برونائی دارالسلام، کیوبا، انڈونیشیا اور میانمار کے سفیروں اور نمائندوں کے علاوہ پاکستان کے ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ قلم نے شرکت کی۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر حمزہ حسن شیخ نے کی۔تقریب کا آغاز پاکستان اور ویتنام کے قومی ترانے پیش کرنے سے ہوا۔صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مہمانوں اور سفارتی نمائندگان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قیدی کی ڈائری محض ایک انقلابی رہنما کی روداد نہیں بلکہ انسانی آزادی، امید، حوصلے اور عزم کا شعری اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کا اردو ترجمہ اکادمی ادبیات پاکستان اور ویتنام کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے تحت کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی تعاون کے فروغ کی اہم کڑی ہے۔

انہوں نے آسیان ممالک کے ساتھ ادبی روابط مزید مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے خطاب کے اختتام پر گزشتہ رات انتقال کر جانے والے معروف ادیب، شاعر اور دانشور حلیم قریشی کے لیے فاتحہ خوانی کرائی اور مرحوم کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔پروفیسر منیر فیاض اور سابق سفیر صلاح الدین چوہدری نے کتاب قیدی کی ڈائری، ہو چی من کی شخصیت، شاعری اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا اور منتخب اشعار پیش کیے۔ صدرِ مجلس امداد اکاش نے ہو چی من کو مظلوم اقوام کے لیے حوصلے، مزاحمت اور آزادی کی علامت قرار دیتے ہوئے کتاب کے منتخب اشعار سنائے۔

ویتنام کے سفیر عزت مآب جناب پھان آن تو آن نے ڈاکٹر نجیبہ عارف اور اکادمی ادبیات پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہو چی من کی شاعری کو ویتنامی قومی فکر، آزادی اور خودمختاری کا ترجمان قرار دیا اور کتاب کے اردو و انگریزی تراجم کو پاکستان اور ویتنام کے درمیان ادبی روابط کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔قیدی کی ڈائری بیسویں صدی کی اہم ادبی تخلیقات میں شمار ہوتی ہے، جس میں قید و بند، تنہائی اور انسانی کرب کے ساتھ آزادی، امید، حوصلے اور عزمِ صمیم کو شعری اظہار دیا گیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ محترمہ کوثر خانم نے جبکہ نظرِ ثانی محترمہ نجمہ ثاقب نے کی ہے،تقریب کے اختتام پر ویتنام کے سفیر عزت مآب جناب پھان آن تو آن نے صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان، مقررین اور منتظمین کو یادگاری تحائف پیش کیے، جبکہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے معزز مہمانوں کو اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات پر مشتمل تحائف پیش کیے۔ تقریب کے بعد تمام سفارتی نمائندگان اور معزز مہمانانِ گرامی نے اکادمی ادبیات پاکستان میں ویتنامی سفارتخانے کی جانب سے کتب کی نمائش اور ثقافتی اسٹال کا دورہ کیا، جہاں انہیں ویتنام کے ادبی اور ثقافتی ورثے سے متعلق کتب اور ثقافتی اشیاء کا تعارف کرایا گیا۔ تقریب نے پاکستان، ویتنام اور آسیان ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی تعاون اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کو مزید تقویت دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔