اسلام آباد(سب نیوز) سپریم کورٹ نے 2014 میں کوٹ رادھا کشن، قصور میں مسیحی جوڑے کو اینٹوں کے بھٹے کی بھٹی میں پھینک کر قتل کرنے کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے تین ملزمان محمد عرفان، محمد ریاض اور مہدی خان کو بری کردیا۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے تینوں ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے شواہد میں اہم اور بنیادی نوعیت کے تضادات موجود ہیں، جن سے ملزمان کے جرم میں ملوث ہونے کے حوالے سے سنگین شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض واقعے کی سنگینی کسی شخص کو قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر سزائے موت دینے کے لیے کافی نہیں۔سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے دیگر 102 ملزمان کی بریت کے خلاف دائر اپیل بھی مسترد کردی اور قرار دیا کہ بری ہونے والے ملزمان کو بے گناہی کا دوہرا قانونی تحفظ حاصل ہے، جبکہ بریت کے فیصلے کو تبدیل کرنے کے لیے غیر معمولی اور انتہائی مضبوط وجوہات درکار ہوتی ہیں۔عدالت نے تینوں اپیل کنندگان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا بشرطیکہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہوں۔
تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے استغاثہ کے مقدمے کو خود متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم سوال ہی یہ تھا کہ مقتولین کو بھٹی تک کون لے کر گیا اور انہیں آگ میں کس نے پھینکا۔عدالت نے نشاندہی کی کہ پولیس افسر محمد علی کی جانب سے درج ایف آئی آر میں محمد عرفان کا نام شامل نہیں تھا، حالانکہ ایف آئی آر میں 59 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔ایف آئی آر میں مقتولین کو بھٹی میں پھینکنے کا کردار سات ملزمان سے منسوب کیا گیا تھا، جن میں مہدی خان بھی شامل تھا، تاہم ان سات میں سے چھ افراد بعد ازاں بری ہوگئے۔عدالت کے مطابق محمد ریاض کا نام ایف آئی آر میں موجود تھا لیکن مقتولین کو بھٹی تک گھسیٹنے یا آگ میں پھینکنے کا مخصوص کردار اس سے منسوب نہیں کیا گیا تھا۔
بعد ازاں مقتولین کے رشتہ دار گواہوں نے عدالت میں مختلف بیان دیا اور محمد عرفان کو مقتولین کو بھٹی میں پھینکنے کا مخصوص ملزم قرار دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس گواہوں اور نجی گواہوں کے بیانات میں بھی نمایاں اختلافات موجود تھے۔سپریم کورٹ نے محمد عرفان کا نام ایف آئی آر میں شامل نہ ہونے کے معاملے کو بھی اہم قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر گواہ عرفان کو دونوں مقتولین کو بھٹی میں پھینکنے والا واحد شخص قرار دے رہے تھے تو یہ بات قابلِ فہم نہیں کہ ایف آئی آر کے اندراج کے وقت اس کا نام شامل نہ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ایک پولیس گواہ کے علاوہ دیگر پولیس عینی شاہدین نے ٹرائل کورٹ کے سامنے محمد عرفان کا نام نہیں لیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ تینوں اپیل کنندگان کے خلاف بنیادی طور پر وہی عینی شاہادت پیش کی گئیں جس کی بنیاد پر ان کے دیگر شریک ملزمان کو پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے۔
عدالت کے مطابق استغاثہ یہ واضح کرنے میں ناکام رہا کہ تینوں ملزمان کا کیس بری ہونے والے شریک ملزمان سے کس طرح مختلف تھا۔ ایسی صورت میں پہلے سے ناقابلِ اعتبار قرار دیے گئے شواہد کو کسی آزادانہ اور مضبوط تائیدی ثبوت کے بغیر تینوں ملزمان کی سزائے موت برقرار رکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے 2014 کے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور سفاکانہ قرار دیا۔ عدالت کے مطابق تقریبا 500 سے 600 افراد کے ہجوم نے قرآن پاک کی بے حرمتی یا جلانے کے الزام کی بنیاد پر مسیحی جوڑے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کورٹ پہلے ہی اس الزام کو ثابت کرنے والے قابلِ اعتماد شواہد کو مسترد کرچکی تھی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص یا ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، چاہے کسی جرم کا شبہ ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے معاملے میں پولیس کو اطلاع دے کر قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے کہا کہ مسیحی برادری ملک کا ایک اہم حصہ ہے اور اسلام کسی اقلیتی شہری کے ساتھ محض شک کی بنیاد پر اس طرح کے وحشیانہ سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔سپریم کورٹ نے ملزمان کے جسم پر جلنے کے زخم نہ ہونے کو بھی استغاثہ کے مقدمے کو کمزور کرنے والا عنصر قرار دیا۔ عدالت کے مطابق گواہوں نے بتایا کہ بھٹی کے قریب کام کرنے والے مزدور شدید گرمی سے بچا کے لیے لکڑی کے جوتے اور گیلے کپڑے استعمال کرتے تھے۔ تاہم تینوں ملزمان کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے ایسی حفاظتی اشیا پہن رکھی تھیں یا مقتولین کو بھٹی میں پھینکتے وقت انہیں جلنے کے زخم آئے تھے۔
یہ واقعہ 4 نومبر 2014 کو قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن کے چک 59 میں واقع اینٹوں کے بھٹے پر پیش آیا تھا، جہاں ایک ہجوم نے مسیحی جوڑے کو مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نومبر 2016 میں مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے محمد عرفان، محمد ریاض اور مہدی خان کو دو، دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے 16 مئی 2019 کو دیگر 10 شریک ملزمان کو بری کردیا تاہم تینوں کی سزائے موت برقرار رکھی۔اب سپریم کورٹ نے تینوں ملزمان کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ استغاثہ ان کے خلاف جرم شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر استغاثہ کے مقدمے میں ایک بھی ایسا معقول شک موجود ہو جو ملزم کے حق میں جائے تو اسے شک کا فائدہ دینا اس کا قانونی حق ہے، رعایت یا احسان نہیں۔
سپریم کورٹ نے کوٹ رادھا کشن واقعہ میں سزائے موت پانے والے تین ملزمان کو بری کر دیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
