اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان سے افغانستان میں ہتھیاروں کی مبینہ اسمگلنگ کا افغان طالبان کا دعوی بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے دیا گیا،پاکستان کی وزارت اطلاعات کو نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دعوی مسلمہ حقائق کے منافی اور عالمی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کی کوشش ہے، افغانستان امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی بڑی مقدار پہلے ہی رکھتا ہے، ایسے ہتھیاروں کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوشش بظاہر عالمی توجہ اصل اور زیادہ سنگین مسئلے سے ہٹانے کی ایک کوشش ہے، یہ معاملہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق اہم تشویش کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کو اب بھی پناہ، سہولت کاری اور کارروائی کی آزادی حاصل ہے، یہ گروہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیوں میں مصروف ہیں، افغان طالبان کو بے بنیاد الزامات کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف موثر کارروائی کرنا ہوگی، افغان حکام اپنے وعدوں کی پاسداری یقینی بنائیں اور افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
تفصیلات کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات نے پاکستان سے افغانستان میں ہتھیاروں کی مبینہ اسمگلنگ سے متعلق افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کا یہ دعوی مسلمہ حقائق کے منافی اور عالمی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق افغانستان امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی بڑی مقدار پہلے ہی رکھتا ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ اس چھوڑے گئے سازوسامان کی مالیت کا تخمینہ 7 اعشاریہ2 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں کئی دہائیوں کے تنازعات سے جمع شدہ سوویت دور کے ہتھیاروں کے بڑے ذخائر بھی موجود ہیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ ذخائر بھی افغان سرزمین پر اسلحے کی موجودگی کی ایک اہم وجہ ہیں۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ ایسے ہتھیاروں کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوشش بظاہر عالمی توجہ اصل اور زیادہ سنگین مسئلے سے ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔بیان کے مطابق یہ معاملہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق اہم تشویش کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کو اب بھی پناہ، سہولت کاری اور کارروائی کی آزادی حاصل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیوں میں مصروف ہیں۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان طالبان کو بے بنیاد الزامات کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف موثر کارروائی کرنا ہوگی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکام اپنے وعدوں کی پاسداری یقینی بنائیں اور افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
