اسلام آباد(سب نیوز)کامسٹیک اور ریوائیو میڈیکل ٹیکنالوجیز کے مشترکہ انڈسٹریل انٹرن شپ پروگرام کا آغاز ہوگیا، جس کے تحت آذربائیجان، کیمرون، اردن، نائجیریا اور پاکستان کے منتخب نوجوانوں کو شعبہ صحت میں چار ہفتوں کی عملی صنعتی تربیت فراہم کی جائے گی۔
منتخب انٹرنز کے اعزاز میں ریوائیو میڈیکل ٹیکنالوجیز اسلام آباد میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ پروگرام کے دوران شرکاء کو میڈیکل ڈیوائسز کی تیاری، بائیومیٹریلز، ہیلتھ ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، کوالٹی اشورنس، ٹیسٹنگ، ریگولیٹری امور اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں عملی تجربہ فراہم کیا جائے گا۔
پروگرام کے لیے آذربائیجان سے سمیرا سلیمانووا، کیمرون سے سومینے ڈونگمو اسٹینی لیونل، اردن سے احمد حماشہ، نائجیریا سے مصطفیٰ صالحو اور پاکستان سے ایشا رحمان ملک کا انتخاب کیا گیا ہے۔
کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جامعات میں حاصل ہونے والے علم اور تحقیق کو عملی صنعت سے جوڑنا نوجوان سائنسدانوں اور انجینئرز کی تربیت کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کامسٹیک او آئی سی رکن ممالک کے نوجوان محققین اور انجینئرز کو جدید صنعتی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ منسلک کرکے عملی تربیت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ مستقبل میں اس پروگرام کو مزید او آئی سی ممالک تک وسعت دی جائے گی۔
ریوائیو میڈیکل ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور کامسٹیک ڈسٹنگوشڈ اسکالر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ نجابت علی نے کہا کہ صنعت اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان مضبوط روابط جدید تحقیق کو قابلِ استعمال ٹیکنالوجی اور مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کامسٹیک کے ساتھ تربیت، تحقیق اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ریوائیو میڈیکل ٹیکنالوجیز پاکستان میں نجی شعبے کا پہلا ادارہ ہے جو امراض قلب کے لیے لائف سپورٹنگ اور انٹراواسکولر طبی آلات تیار کر رہا ہے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سے لائسنس یافتہ ہے۔
چار ہفتوں کے دوران منتخب نوجوان ماہرین اور محققین کے ساتھ کام کرتے ہوئے طبی آلات کی تیاری، تحقیق، جدید ہیلتھ ٹیکنالوجیز اور صنعتی و ریگولیٹری طریقہ کار کا عملی تجربہ حاصل کریں گے۔
