ہومبریکنگ نیوزسوات ،کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش دھماکہ، پولیس جوانوں سمیت 14افراد جاں بحق، 18سے زیادہ زخمی

سوات ،کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش دھماکہ، پولیس جوانوں سمیت 14افراد جاں بحق، 18سے زیادہ زخمی

سوات (سب نیوز)خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے باہر مبینہ خودکش دھماکے میں پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ 18 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سوات کے علاقے کبل میں اتوار کی شام پولیس اسٹیشن کے باہر ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس جوانوں اور عام شہریوں سمیت متعدد 14 افراد جاں بحق اور 18 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

سوات پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس، ریسکیو اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات عمر خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک حملہ آور نے کبل پولیس تھانے کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، تاہم واقعے کی تمام پہلوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے میں اب تک 14 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 18 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق افراد میں سے 9 کی لاشیں سیدو شریف سینٹرل اسپتال اور 5 کی لاشیں کبل اسپتال منتقل کی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر پولیس جوان شامل ہیں، تاہم شہری بھی اس سانحے کا نشانہ بنے ہیں۔ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات شعیب منصور کی نگرانی میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ریسکیو آپریشن میں 13 ایمبولینسیں اور 45 سے زیادہ اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ ملبہ ہٹانے اور متاثرین کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔ڈی پی او سوات نے بتایا کہ دھماکے کے فورا بعد تفتیشی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام واقعے کی نوعیت اور اس میں ملوث عناصر کا تعین کرنے کے لیے مختلف پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں۔واقعے کے ایک عینی شاہد کے مطابق کبل میں معمول کے مطابق زندگی جاری تھی کہ اچانک پولیس تھانے کے سامنے زور دار دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد ہر طرف افراتفری پھیل گئی، متعدد لاشیں سڑک پر پڑی تھیں اور زخمی مدد کے لیے پکار رہے تھے۔دھماکے کے بعد سوات بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ حساس مقامات کی نگرانی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔خیبر پختونخوا، خصوصا ملاکنڈ ڈویژن، ماضی میں بھی دہشتگردی کے متعدد واقعات کا سامنا کر چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔تاہم وقفے وقفے سے پیش آنے والے ایسے حملے سیکیورٹی اداروں کے لیے بدستور ایک بڑا چیلنج سمجھے جاتے ہیں۔ واقعے کی مکمل نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں حکام کی تحقیقات جاری ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔