مظفرآباد(آئی پی ایس)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات معمول کے نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے، اس لیے عوام ایسا فیصلہ کریں جس سے آزاد کشمیر کا مستقبل روشن ہو اور مسائل میں اضافہ نہیں بلکہ کمی آئے۔میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کا میرپور سے تعلق تین نسلوں پر محیط ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود نے ان کی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے والد نے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کام کیا، جبکہ آج قاسم مجید ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان کے والد بھی ماضی میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ وابستہ رہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے بزرگوں نے جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کی، اب ان کی نسل کی ذمہ داری ہے کہ اس مشن کو آگے بڑھائے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین اور ایٹمی پروگرام دیا، جبکہ شہید بینظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے بینظیر بھٹو کے نامکمل مشن کو آگے بڑھایا اور اب ان کی کوشش ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کو حقِ ملکیت، حقِ روزگار اور حقِ حکمرانی دلایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ملی تو وہ قانون میں ایسی ترمیم کریں گے جس سے آزاد کشمیر کے عوام اور مہاجرین، دونوں کو انصاف ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان انتخابات میں واحد سیاسی جماعت ہیں جو مہاجرین کی بارہ نشستوں کے ساتھ بھی انصاف چاہتی ہے۔ میری نظر میں جب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ12 نشستیں اس کی جیب میں ہیں، تو یہ نہ صرف مہاجرین بلکہ آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین کو نمائندگی نہ دی جائے اور ووٹ کا حق بھی نہ دیا جائے، مگر ہمارا مقف بالکل واضح ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مہاجرین کو نمائندگی بھی ملنی چاہیے، ووٹ کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے، لیکن کشمیر کا فیصلہ پنجاب نہیں کرے گا، سندھ نہیں کرے گا، بلکہ کشمیر کا فیصلہ صرف اور صرف کشمیری عوام کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقِ حکمرانی کا معاملہ صرف 12 نشستوں تک محدود نہیں، بلکہ 1947 سے آزاد کشمیر کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر آزاد کشمیر کے عوام کو وہ حقوق دلانے کی کوشش کرے گی جن کے وہ حق دار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ سزا ریاست پاکستان یا ریاست جموں و کشمیر کو نہیں دے رہے بلکہ وہ ریاست کی غلطیوں کی سزا آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو دے رہے ہیں، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میرپور والوں کی، کشمیر کے عوام کی کیا غلطی ہے جو اس احتجاج کی وجہ سے کشمیر کے عوام کی زندگی میں مشکلات پیدا ہو۔
