نئی دہلی (آئی پی ایس )افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیرِ زراعت مولوی عطا اللہ عمری نے کہا ہے کہ انڈیا اور افغانستان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں اور دونوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق افغان وزیر نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) کے ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین تاریخی روابط پر زور دیا۔
وہاں موجود انگریزی مترجم کے مطابق مولوی عطا اللہ عمری نے ہال میں موجود شرکا کی ایک بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بالکل بھی یہ محسوس نہیں ہو رہا کہ میں کسی اجنبی جگہ پر ہوں۔ یہ ہمارا اپنا ہی ملک ہے اور جیسا کہ آپ نے کہا کہ ہمارا ڈی این اے ایک ہی ہے، بالکل یہی بات ہے۔افغان وزیر کے گفتگو پر ہال میں موجود مہمانوں نے تالیاں بجا کر انہیں سراہا۔
واضح رہے کہ طالبان کے وزیرِ زراعت اس تقریب میں دری زبان میں گفتگو کر رہے تھے جس کا ساتھ ساتھ انگریزی میں ترجمہ کیا جا رہا تھا۔ طالبان حکومت کے وزیر نے انڈیا کی مودی حکومت کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا انڈیا کا پہلا دورہ ہے لیکن دونوں ممالک کے تعلقات صرف آج کے نہیں بلکہ بہت طویل اور پرانے ہیں۔
انہوں نے کہا جس دن سے میں نے ہندوستان کی دھرتی پر قدم رکھا ہے، مجھے انڈین حکومت، وزارتِ خارجہ اور میں جس کسی سے بھی ملا، ان سب نے پرتپاک استقبال کیا۔ اس لیے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے یہ میرے اپنے ہی لوگ ہیں۔مولوی عطا اللہ عمری کا کہنا تھا کہ انڈیا میں ہونے والا یہ پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی دراصل افغانستان کے عوام کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔
افغان وزیر زراعت نے اپنے محکمے اور افغانستان کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کی 80 فیصد آبادی لائیو سٹاک، زراعت اور آبپاشی کے شعبے سے وابستہ ہے۔انہوں نے انڈیا کی زرعی ترقی اور ٹیکنالوجی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان کسانوں کو بھی نئی ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام کو مزید جدید اور باصلاحیت بنانے کے لیے، ہمیں ان روایتی طریقوں اور پرانی ٹیکنالوجی کو بدلنا ہو گا جو ہم اب تک استعمال کر رہے تھے۔ طالبان وزیر نے اپنی گفتگو کا اختتام دونوں ممالک کے تاریخی رشتوں پر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوستی کے یہ تعلقات آج، کل یا پرسوں کے نہیں ہیں، بلکہ یہ قدیم زمانے سے ہیں اور سینکڑوں سال پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔
