ہومپاکستانلیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامعنی مذاکرات کا مطالبہ، میثاق پاکستان کی تجویز

لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامعنی مذاکرات کا مطالبہ، میثاق پاکستان کی تجویز

اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جامع، کثیر الجہتی اور بامعنی مذاکرات پر زور دیتے ہوئے میثاق پاکستان تشکیل دینے کی تجویز دیدی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کافی دیر ہو چکی ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جامع، کثیر الجہتی اور بامعنی مذاکرات ناگزیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو بھی مذاکراتی عمل کا حصہ ہونا چاہیے اور ملک کے مستقبل کے لیے میثاق پاکستان تشکیل دیا جائے۔خواجہ سعد رفیق کے مطابق پاکستان کی سلامتی، وحدت اور ترقی کے لیے تمام فریقوں کو آپس میں بات کرنا ہوگی اور ایک قومی ایجنڈا تشکیل دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کا روڈ میپ آئین کی حکمرانی اور آئین سے کھلواڑ کے مستقل تدارک، شفافیت اور عدل کے قیام، معیشت کی بحالی اور دہشت گردی کا مشترکہ مقابلہ کرنے کی بنیاد پر طے کیا جانا چاہیے۔سابق وفاقی وزیر نے آزاد الیکشن کمیشن، ہر دبا سے آزاد اور شفاف انتخابات کی ضمانت، عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کے وجود، سیاسی انتقام کے خاتمے اور کرپشن فری معاشرے کے قیام پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس، توانائی اور آبی وسائل میں خود کفالت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مضبوط بلدیاتی نظام اور ذمہ دار و بااختیار عدلیہ بھی مستقبل کے قومی روڈ میپ کا حصہ ہونی چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ریاستی یا گروہی طاقت کا بے محابا استعمال بہت جلد ایک حد عبور کرکے جبر اور استحصال میں تبدیل ہو جاتا ہے اور بالآخر ایسا کرنے والے اپنی سمت میں بڑھتے ہوئے منزل کھو دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف فریق اپنی اپنی جگہ کئی بار منزل کھو چکے ہیں اور اس تباہی میں سب نے اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالا ہے، جبکہ یہ عمل بدستور جاری ہے اور ملک کو اندر سے کمزور کر رہا ہے۔سعد رفیق نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ ملک کی خاطر جاگ جائیں، حقائق کا ادراک کریں، آگے بڑھیں، ایک دوسرے کو برداشت کریں، بات کریں اور ساتھ رہنا سیکھیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں نت نئے تجربات کرکے دیکھ لیے گئے لیکن بات نہیں بنی، اب آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے دیکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام فریق آئین کی روح کے مطابق چلیں تو “ان شا اللہ بات بھی بنے گی اور راستہ بھی نکلے گا۔”

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔