ہومکالم وبلاگزموسم کی سزا، انسان کی خطا

موسم کی سزا، انسان کی خطا

تحریر: محمد محسن اقبال
جون کے ابتدائی ایام کی جھلسا دینے والی گرمی جب برصغیر کے وسیع میدانوں پر آگ برسانا شروع کرتی ہے تو اپنے ساتھ ایک ایسی آزمائش بھی لے آتی ہے جو ان دریاؤں جتنی قدیم ہے جنہوں نے صدیوں سے اس سرزمین کی آبیاری کی ہے۔ پاکستان اور اس سے ملحقہ خطوں میں سورج اپنی پوری شدت کے ساتھ زمین پر اتر آتا ہے۔ زرخیز مٹی تپ کر شگافوں میں بدل جاتی ہے، مون سون کی پہلی بوند گرنے سے پہلے ہی خشک سالی کی شدت بڑھنے لگتی ہے، اور زندگی ایک کڑے امتحان سے گزرنے لگتی ہے۔ صدیوں سے موسموں کی یہی گردش یہاں کے باشندوں کی زندگی کا حصہ رہی ہے اور اسی نے ایسے باہمت اور صابر انسان پیدا کیے ہیں جن کی استقامت ضرب المثل بن چکی ہے۔
مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین محمد بابر نے اپنی شہر? آفاق خودنوشت’ تزکِ بابری’ میں اس کیفیت کا نہایت دلچسپ انداز میں ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں برسات کے تین ماہ شدید حبس اور ناقابلِ برداشت گرمی کے باعث نہایت دشوار ہوتے تھے، مگر اسی موسم میں ایک ایسے بے مثال میٹھے پھل کی فراوانی انہیں سکون بخشتی تھی جسے عام طور پر آم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے رس بھرے ذائقے اور خوشبو میں انہیں گرمی کی سختیوں کا مداوا نظر آتا تھا، حتیٰ کہ اس کے پتوں کو دیکھ کر بھی ان کے دل میں تازگی اور مسرت کی لہر دوڑ جاتی تھی۔ اس کے باوجود بابر کا دل اکثر اپنے آبائی وطن وادی? فرغانہ کی ٹھنڈی فضاؤں یا اپنی نئی سلطنت کے سرسبز پہاڑوں اور سایہ دار مقامات کی طرف کھنچتا رہتا تھا، جہاں گرمی کی شدت سے کچھ نجات مل سکتی تھی۔
آج بھی پاکستان میں جب درجہ? حرارت آسمان کو چھونے لگتا ہے تو یہی خواہش ہر دل میں انگڑائی لیتی ہے۔ لوگ شمالی علاقہ جات کی سرسبز وادیوں، مری اور گلیات کی خنک فضاؤں کا رخ کرنے کے منصوبے بنانے لگتے ہیں۔ جو زیادہ خوشحال ہیں وہ یورپ کے معتدل موسموں کا انتخاب کرتے ہیں، جبکہ بہت سے ایسے والدین، جن کے بیٹے یا بیٹیاں بیرونِ ملک آباد ہیں، کینیڈا، امریکہ یا برطانیہ جا کر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گرمیوں کے چند ہفتے سکون سے گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
اسلام آباد میں میرے پُرسکون محلے میں بھی چائے کی پیالیوں اور آہستہ گھومتے پنکھوں کے سائے تلے انہی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ میرے ہمسائے، سابق بینکار جناب شاہد انصاری، خوش مزاج، مضبوط اعصاب کے مالک اور کھیلوں کے دلدادہ انسان ہیں۔ ہمارے مشترکہ دوست اور پڑوسی، تجربہ کار مرچنٹ نیوی کیپٹن جناب یوسف خالد، محبت سے انہیں ”مزے کے آدمی” کہا کرتے ہیں، کیونکہ ان کی بے مثال خوش مزاجی اور زندگی سے بھرپور وابستگی ہر محفل کو زندہ کر دیتی ہے۔ چند روز قبل انہوں نے بتایا کہ ان کے صاحبزادے نے کینیڈا سے انہیں اپنے پاس بلایا ہے اور ان کی دلی خواہش ہے کہ وہاں جا کر فیفا کا ایک میچ کسی عظیم الشان اسٹیڈیم میں براہِ راست دیکھیں۔ لیکن یورپ میں حالیہ شدید گرمی کی خبروں نے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق یورپ میں گرمی کی تازہ لہر کے باعث تیرہ سو سے زائد اضافی اموات ہو چکی ہیں، کئی ممالک میں درجہ? حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے اور بزرگوں، بچوں اور صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ بڑھ چکا ہے۔ مسکراتے ہوئے انہوں نے کہا: ”اگر گرمی ہی برداشت کرنی ہے تو اپنے ہی بہادر اور عادی لوگوں کے درمیان پاکستان میں رہنا زیادہ بہتر ہے۔”
حقیقت بھی یہی ہے کہ اس خطے کے باشندے سخت موسموں کے ساتھ صدیوں کی رفاقت کے باعث ایک منفرد قوتِ برداشت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مشکلات جھیلنے کی ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے جو بیرونی دنیا کے لیے حیرت کا باعث بنتی ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں جب درجہ? حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی بڑھ جاتا ہے، تب بھی مزدور سڑکیں اور چھتیں تعمیر کرتے دکھائی دیتے ہیں، مکینک تپتے ہوئے انجنوں کی مرمت میں مصروف رہتے ہیں اور خواتین دہکتے چولہوں پر کھانے پکاتی رہتی ہیں۔ بازار آباد رہتے ہیں، دیگچیاں ابلتی رہتی ہیں اور زندگی خاموش عزم کے ساتھ اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔
اس سال پاکستان کو غیر معمولی اور طویل ہیٹ ویوز کا سامنا ہے۔ معمول سے کئی درجے زیادہ درجہ? حرارت نے خشک سالی میں اضافہ کر دیا ہے اور غیر یقینی مون سون سے قبل آبی وسائل شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ تاہم یہ ایک بڑا ظلم ہوگا کہ ان حالات کی ذمہ داری پاکستان یا جنوبی ایشیا کے عوام پر عائد کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں اس خطے کا حصہ نہایت معمولی ہے، جبکہ اصل ذمہ داری ان صنعتی طاقتوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے گزشتہ ڈھائی سو برس کے دوران بے تحاشا کاربن فضا میں خارج کیا۔
مستند اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ 1750ء سے اب تک امریکہ اکیلا تقریباً چار سو ارب ٹن یا اس سے بھی زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر چکا ہے، جو تاریخی اعتبار سے دنیا کے مجموعی اخراج کا تقریباً ایک چوتھائی بنتا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک مجموعی طور پر تقریباً پانچواں حصہ اخراج کے ذمہ دار ہیں۔ چین اگرچہ آج سالانہ اخراج میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے اور حالیہ برسوں میں تیرہ ارب ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر رہا ہے، لیکن تاریخی اعتبار سے اس کا حصہ تقریباً گیارہ فیصد ہے۔ روس، برازیل اور انڈونیشیا بھی بالخصوص جنگلات کی کٹائی اور زمین کے استعمال میں تبدیلی کے باعث نمایاں کردار رکھتے ہیں۔ صرف 2024ء میں توانائی سے متعلق عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 37.8 گیگا ٹن کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔ یہی مسلسل اخراج آج پوری دنیا میں گرمی کی لہروں کو زیادہ شدید، زیادہ طویل اور زیادہ جان لیوا بنا رہا ہے۔
اب یورپ خود بھی اپنے ماضی کے اعمال کے نتائج بھگتنے لگا ہے۔ 2022ء کی گرمی کی لہر نے پورے یورپ میں ساٹھ ہزار سے زائد انسانی جانیں نگل لیں۔ اس کے بعد آنے والے برسوں میں بھی ہزاروں افراد گرمی کی نذر ہوئے، جبکہ 2026ء کی ابتدائی گرمی کی لہر نے مختصر عرصے میں تیرہ سو سے زائد اضافی اموات کا سبب بن کر یہ ثابت کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی اس تباہی کو کئی گنا بڑھا رہی ہے۔ جو مسئلہ کبھی دور دراز ملکوں کا دکھ سمجھا جاتا تھا، آج ترقی یافتہ دنیا کی دہلیز پر دستک دے چکا ہے۔ بلاشبہ انسان کو درد کا صحیح احساس تبھی ہوتا ہے جب وہ خود اس کی تپش محسوس کرے۔
اب احتساب اور اجتماعی شعور کا وقت آ پہنچا ہے۔ جن ممالک نے صنعتی انقلاب کے ثمرات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا، ان پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی کریں، صاف توانائی کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھائیں اور پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو موافقت اور تحفظ کے لیے بھرپور معاونت فراہم کریں۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو بھی ترقی کا ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جو ماحول دوست ہو۔ اسی طرح ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اپنائے، وسائل کے محتاط استعمال کو فروغ دے اور ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔
اجتماعی بصیرت، انصاف اور دوراندیشی ہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی میں ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ناقابلِ برداشت گرمی کے مستقبل سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آئیے، آم کے گھنے سایوں یا شمالی پہاڑوں کی ٹھنڈی ہواؤں میں بیٹھ کر یہ عہد کریں کہ موسمِ گرما کی یہ آزمائش ہر آنے والے موسم کی دائمی تقدیر بننے سے پہلے ہم اپنے حصے کا فرض ضرور ادا کریں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔