اسلام آباد(آئی پی ایس )خیبر پختونخوا رائٹ آف انفارمیشن ایکٹ (کے پی آر ٹی آئی)ایکٹ کو موثر بنانے کے لیے فافن نے قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔غیر سرکاری تنظیم فافن کی رپورٹ میں خیبرپختونخوا میں معلومات تک رسائی کے قانون کو فعال اور موثر بنانے پر زور دیا گیا ہے اور سرکاری اداروں میں قانونی طور پر لازمی معلومات کا اوسطا صرف 57 فیصد آن لائن شائع ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معلومات کی کمی اور شفافیت کے خلا سے غلط معلومات اور قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور کے پی آر ٹی آئی ایکٹ میں تعریفات کے ابہام اور کمزور نفاذ کی نشاندہی کی گئی۔فافن نے نجی اداروں کو قانون کے دائرہ کار میں لانے کی تجویز دی ہے اور معلومات کی تعریف میں ڈیجیٹل اور مشین ریڈ ایبل ریکارڈ شامل کرنے کی سفارش کی۔رپورٹ میں انفارمیشن کمیشن کی ادارہ جاتی خودمختاری مضبوط بنانے اور اختیارات بڑھانے کی تجویز، کمیشن کو ریکارڈ چیکنگ، ہدایات جاری کرنے اور نفاذ یقینی بنانے کا اختیار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔اِسی طرح کے پی رائٹ ٹو انفارمیشن فنڈ قائم کرنے اور مالی خودمختاری دینے کی سفارش جب کہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم، ایس ایم ایس/ای میل اپڈیٹس اور آر ٹی آئی موبائل ایپ متعارف کرانے کی تجویز ہے۔فافن کی رپورٹ میں معلومات کی فراہمی کے لیے سرکاری اداروں میں معیاری فارمیٹس لازمی بنانے کا مطالبہ کیا گیا جب کہ سالانہ بنیادوں پر معلوماتی ٹیمپلیٹس اپڈیٹ کر کے مرکزی پورٹل پر شائع کرنے کی سفارش کی گئی۔

