تہران (آئی پی ایس )ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کی شب انتہائی اہم تقریر کیدوران اعلان کیا کہ امریکا سے معاہدہ پر ڈیجیٹل اور ریموٹلی دستخط کیے جائیں گے۔ یہ انتہائی اہم سوال ہے کہ اپنی نوعیت کے اس اہم ترین تاریخی امن معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والے ایک اہم سفارتی ذریعے نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے وفود کے لیے جنیوا میں تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی تھی کیونکہ یہ دستخط دونوں ملکوں کے نمائندوں کو ذاتی حیثیت میں کرنا تھے۔
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ ایران کو تاحال امریکا اور اسرائیل پر اعتماد نہیں اور دو بنیادی چیزوں کی وجہ سے ایران میں پالیسی ساز ادارے آخری لمحات میں اس نتیجے پر پہنچے کہ ذاتی حیثیت کی بجائے معاملہ فی الحال ریموٹلی انجام دیا جائے۔
نام ظاہر نہ کرنھے کی شرط پر اس سفارتی ذرائع نے بتایا اگر یہ تقریب جنیوا کی بجائے پاکستان میں رکھی گئی ہوتی تو عین ممکن تھا کہ ایرانی وفد پاکستان آجاتا کیونکہ ایران کو جن دو باتوں پر تاحال تحفظات ہیں ان میں سے ایک بڑی حد تک دور ہوجاتا۔

