تہران، واشنگٹن: (آئی پی ایس) امریکا کی جانب سے آج صبح ایران پر مزید حملوں کے بعد ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر آج صبح مزید حملوں کے بعد کارروائی روکنے کا اعلان کیا ہے، تہران کے مہر آباد ایئر پورٹ، کرج شہر، ابیق اور قزوین میں دھماکے سنے گئے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملے کے جواب میں بحرین میں پانچویں امریکی نیول بیس اور کویت میں امریکی اڈے سمیت 18 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
کویت کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے ایرانی جارحیت کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک کی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، پروازوں کو منظور شدہ معاہدوں اور طریقہ کار کے تحت متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑا جائے گا۔
قبل ازیں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 12 بیلسٹک میزائل استعمال کرتے ہوئے اردن میں واقع الأزرق ایئر بیس اور کنٹرول سینٹر پر امریکی فوج کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا، حملے میں امریکی فوج کے جدید لڑاکا طیارے، جن میں F-35، F-15 اور F-16 شامل ہیں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی امریکی فوج کی تنصیبات اور آپریشنل ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔
سینٹکام نے پاسداران انقلاب کے اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن اس نے ایران میں فوجی ذرائع سے امریکی جنگی جہاز پر حملے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے بارے میں سابقہ رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے۔
ادھر بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔
آج صبح امریکی حملوں کے ایک گھنٹہ بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے ملک کی فوج کے حوالے سے کہا کہ بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا گیا ہے، فوج کے ڈرون حملوں میں امریکی پانچویں بیڑے کے پیٹریاٹ سسٹم کے کمیونیکیشن انٹینا اور ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل امریکہ ایران میں متعدد اہداف پر حملے کر چکا ہے، اس کے جواب میں ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی حملوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور جوابی کارروائی کرے گا۔
علاوہ ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر حملوں کے نئے دور کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر قبل فاکس نیوز کو کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر حملے روک دیے جائیں گے، لیکن ایران نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سخت ردعمل کے بعد امریکا ایران پر حملے روکنے پر مجبور ہوا۔

