Tuesday, June 9, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزایران سب کچھ دینے کیلئے تیار، اسرائیلی حملے کم کرنے میں کامیاب رہا ہوں: ٹرمپ

ایران سب کچھ دینے کیلئے تیار، اسرائیلی حملے کم کرنے میں کامیاب رہا ہوں: ٹرمپ

واشنگٹن: (آئی پی ایس) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سب کچھ دینے کے لیے تیار ہے، ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی حملوں میں کمی لانے میں کامیاب رہا۔

اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ کشیدگی میں کمی کیلئے 5 علاقائی ممالک نے رابطہ کرکے اسرائیلی وزیراعظم پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی، اسرائیلی وزیراعظم سے رابطہ کرکے واضح الفاظ میں کہا کہ نہ نئی جنگ چاہتا ہوں، نہ ہی گرین سگنل دے سکتا ہوں۔

امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو پر واضح کردیا تھا ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں خود کو میدان میں اکیلے پائےگا۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانچ مختلف ممالک نے ان سے رابطہ کیا اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر ایران کے خلاف حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی، یہ ممالک شدید تشویش میں مبتلا تھے، وہ اس معاہدے کو پسند کرتے ہیں اور اس کے حامی ہیں کہ جس پر ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایگزیوس اور اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے جن میں تہران نے حملے روکنے کے لیے آمادگی ظاہر کی، بشرطیکہ اسرائیل بھی اپنی کارروائیاں بند کر دے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حملوں کے تبادلے کے بعد فریقین کو سفارت کاری کی راہ پر واپس آنا چاہئے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان زیرِ مذاکرات معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکا اگلے دو ہفتوں کے اندر ایران پر مکمل فتح کا اعلان کر سکتا ہے، ایرانی مذاکرات کار ہمیں سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

سی بی ایس کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا سے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور ریاست کی گورنری کی امیدوار پامیلا اوٹ کی حمایت میں ایک ٹیلی فون ریلی میں کہا کہ آپ واقعی اگلے دو ہفتوں میں ایک فتح دیکھنے جا رہے ہیں، جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے، یہ ایک مکمل فتح ہونے والی ہے، یہ بہت جلد ہونے والی ہے، اور تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر گرنے والی ہے۔

امریکی صدر نے حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے فوری خاتمے کے بارے میں بارہا ایسی ہی پیشین گوئیاں کی ہیں، فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ بحران ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے، تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے پر ہیں اور دونوں فریق کسی حتمی معاہدے کے کتنے قریب ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔