اسلام آباد(آئی پی ایس )اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج میں دھاندلی کی گئی، انتخابات شفاف نہیں تھے۔صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ نتائج میں تاخیر اور مخصوص نتائج کی تشہیر، انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے ہیں، گلگت بلتستان میں بلیک آوٹ حقائق چھپانے کی کوششیں ہیں، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر نتائج تقسیم کیے گئے، پی ٹی آئی امیدواروں کو مساوی انتخابی مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مداخلت اور گراونڈ پر قبضے سے انتخابی ماحول متاثر ہوا، گلگت بلتستان میں بڑھتی محرومیاں اور وسائل پر قبضے کی کوششیں ہیں، منتخب حکومت گرانے اور وفاداریاں تبدیل کرانے کی روایت جاری رہی ہے، عوام کے حقیقی نمائندوں کو سامنے آنے سے روکا جا رہا ہے، معاشی بدحالی اور سیاسی بحران کے ذمہ داروں کو دوبارہ مسلط کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان انتخابات شفاف نہیں تھے، نتائج پر بڑا سوالیہ نشان موجود ہے، سچائی، عدل اور عوامی رائے کے احترام سے ہی نظام مضبوط ہو سکتا ہے، عوامی مینڈیٹ چوری ہونے سے ریاستی نظام پر اعتماد ختم ہو رہا ہے، حقیقی سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے سے خطرناک خلا پیدا ہوتا ہے، غیر سیاسی عناصر کا ابھرنا سیاسی خلا کا نتیجہ ہے، آزاد کشمیر میں عوامی نمائندوں کو آگے آنے سے روکا جا رہا ہے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کو دہشت گرد اور غدار قرار دینا خطرناک اقدام ہے، مذاکرات میں وعدے کیے جاتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا، انفارمیشن بلیک آوٹ سے افواہیں اور قیاس آرائیاں جنم لیتی ہیں، انٹرنیٹ بندش سے عوام مستند معلومات سے محروم ہو جاتے ہیں، لوگ حکومتی بیانیے پر اعتماد نہیں کرتے، یہی سب سے بڑا بحران ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر جیسے حساس خطے میں غلط فیصلوں کے نتائج دور رس ہوں گے، عوام تک معلومات نہ پہنچیں تو دشمن کا بیانیہ جگہ بنا لیتا ہے، ریاستی پالیسیوں نے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔

