Monday, June 8, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستانعام شہریوں کو تیزاب کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے، سپریم کورٹ کا فیصلہ

عام شہریوں کو تیزاب کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے، سپریم کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد(آئی پی ایس )سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دے دیا، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا کہ ہائی کورٹس تیزاب گردی کے کیسز کا ٹرائل ہر صورت 4 ماہ میں مکمل کریں ،عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کیلئے قومی بحالی فنڈقائم کرے۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔ کیس کا 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا۔

عدالت نے فیصل آباد کی خاتون اقرا پروین پر تیزاب پھینکنے والے عبدالمنان کی درخواست خارج کردی۔ سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی عمر قید کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت کا متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ وحشیانہ اور پہلے سے منصوبہ بندی کیے گئے جرم میں کم عمری کی ڈھال استعمال نہیں ہوسکتی، تیزاب کا حملہ قتل سے بھی زیادہ ہول ناک جرم ہے، قتل انسان کو ایک بار ختم کرتا ہے، تیزاب کا شکار شخص روز مرتا اورزندہ لاش بن جاتا ہے، سپریم کورٹ نے مجرم عبد المنان کو متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے ہائی کورٹس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ تیزاب گردی کے کیسز کا ٹرائل ہر صورت 4 ماہ میں مکمل کیا جائے، عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے، تیزاب کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سسٹم قائم کیا جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے “قومی بحالی فنڈ” قائم کرے، تیزاب حملے کے مستقل متاثرین کو معذوری سرٹیفکیٹ اور سرکاری نوکریوں میں کوٹا دیا جائے، ہائی کورٹس تیزاب گردی کے کیسز کی خود نگرانی کریں، قانون کے مطابق تیزاب گردی کے مقدمات کا فیصلہ ہر صورت 4 ماہ میں یقینی بنایا جائے، متاثرین کو مزید ذہنی اذیت سے بچانے کے لیے تیز رفتار ٹرائل ناگزیر ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ متاثرین کی پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، مستقل معذور یا بیروزگار ہو جانے والے متاثرین کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے، تیزاب کے حملے سے شدید متاثرہ افراد کو باقاعدہ “معذوری سرٹیفکیٹ” جاری کیے جائیں، متاثرین کو سرکاری نوکریوں، تعلیمی اداروں اور فلاحی اسکیموں میں خصوصی کوٹہ دیا جائے، تیزاب گردی کے متاثرین کی سوشل ڈیتھ سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی اور سماجی بحالی کے اقدامات کرے، تیزاب گردی کے متاثرین کے معاشی تحفظ کیلئے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا جائے، قومی بحالی ہدایات مرتب کی جائیں جن میں متاثرین کی تاعمر علاج و بحالی مختص فنڈز سے ہوسکے۔عدالت نے رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی تمام ہائیکورٹس کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا فیصلے کی کاپی سیکریٹری قانون، چیئرمین قانون و انصاف کمیٹی، تمام صوبائی محکمہ قانون کو بھجوائی جائیں، فیصلے کی کاپی اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو بھیجی جائیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔