اسلام آباد(سب نیوز)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے تاجر نمائندگان کے ہمراہ ایک اہم پری بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ معاشی پالیسیوں اور آئندہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھاری بھرکم قرضوں، نااہلی، بدانتظامی، کرپشن، بدترین مہنگائی، ناقابل برداشت ٹیکسز اور لاک ڈان کی وجہ سے ملک کے معاشی حالات کینسر زدہ ہو چکے ہیں۔ ایسے مایوس کن حالات میں وفاقی بجٹ سے کسی ٹھنڈی ہوا یا ریلیف کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے، تاہم پاکستان کا تاجر اور صنعت کار چاہتا ہے کہ حکمران عوام پر رحم کرتے ہوئے صنعت و تجارت کو آئی سی یو سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔کاشف چوہدری نے مارکیٹوں کو ویران کرنے والے لاک ڈاون اور کاروبار کی بندش کے اوقات کار کو ظالمانہ اور عقل سے عاری پالیسی قرار دیتے ہوئے ان کے فوری اور مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب گزشتہ سال کا 13,450 ارب روپے کا ٹیکس ہدف پورا نہیں ہو سکا اور 868 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا، تو حکومت کس بنیاد پر آئندہ سال 15,000 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟ ان اضافی ٹیکسوں کا نفاذ دم توڑتی معیشت کا گلا گھونٹ دے گا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ تاجر ٹیکس نہیں دیتا، اور واضح کیا کہ تاجر ہر ماہ کمرشل بجلی کے بلوں پر 10 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کے علاوہ میونسپل کارپوریشن، پروفیشنل، صفائی ٹیکس سمیت 27 قسم کے اداروں کو ماہانہ ٹیکس اور اہلکاروں کی فرمائشیں پوری کرتا ہے۔تاجر رہنما نے پوائنٹ آف سیل مشینوں کے نفاذ کو بلیک میلنگ اور کرپشن کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کی شرائط کو نرم کرنے، دکانیں سیل کرنے کا نظام ختم کرنے اور انکم ٹیکس کے 45 سے 60 فیصد تک کے بھاری سلیبز کو آدھا کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے حکومت کی فکسڈ ٹیکس اسکیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے ڈنڈے کے زور پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو ماضی کی طرح اس کا راستہ روکا جائے گا، اب تاجروں کو خود دیکھنا ہے کہ ان کے لیے نارمل ٹیکس نظام بہتر ہے یا فکسڈ اسکیم۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ کرنے، رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس 1فیصد کرنے اور جیولرز و موبائل فونز پر ٹیکسز کو منصفانہ بنانے کا مطالبہ کیا۔صنعتی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی اور پٹرول کی موجودگی میں صنعتیں نہیں چل سکتیں، اس لیے صنعتوں کو 25 سینٹ پر بجلی دی جائے، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور آئی پی پیز کو دی جانے والی 2500 ارب روپے کی ظالمانہ کیپسیٹی پیمنٹ فوری بند کی جائے۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں غربت 33فیصد اور پنجاب میں 41فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے 12 کروڑ عوام کی قوتِ خرید ختم ہو گئی ہے۔کاشف چوہدری نے مطالبہ کیا کہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ پر مبنی سودی نظامِ معیشت کا خاتمہ کیا جائے اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے نام پر ملک کو دیوالیہ کرنے کا سلسلہ بند کر کے شرح سود کو فوری طور پر 6فیصد پر لایا جائے تاکہ 3500 ارب کے اخراجات کم ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایک سرکاری افسر 1 کروڑ 53 لاکھ روپے تنخواہ اور مراعات لے رہا ہے، یہ شاہانہ پروٹوکول، وی آئی پی کلچر اور ایوانِ صدر و وزیراعظم ہاوس کی عیاشیاں فوری بند کی جائیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے حکومت کو وارننگ دی کہ قوم بجٹ کی منتظر ہے، اگر وفاقی بجٹ میں عوام اور سرمایہ کار دوست اقدامات نہ کیے گئے تو تاجر برادری مستقبل کے لیے سخت لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

