ٹوکیو:جاپان کی ” مرایاما بیان کی وراثت اور ترقی” تنظیم کے چیئرمین فوجیتا تاکاکیگے نے حال ہی میں نانجنگ قتلِ عام کے متاثرین کی یادگار کا دورہ کیا۔اتوار کے روز میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ موجودہ جاپانی معاشرے کو سب سے پہلے اپنی جارحیت کی تاریخ کا سامنا کرنا چاہیے، اور چینی عوام کو پہنچنے والی بے پناہ تباہی اور نقصانات پر گہری ندامت کا اظہار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں، میں نے نانجنگ قتلِ عام کے متاثرین کی یادگار کا دورہ کیا، اور مجھے ایک بار پھر شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ جاپانی سامراج نے چین پر حملے کے دوران دراصل کیا کیا تھا، کیسے ظالمانہ اور غیر انسانی قتلِ عام کیے گئے، اور چینی عوام کو کس قدر سنگین اور گہرے مصائب سے دوچار کیا گیا۔ چین پر جاپانی جارحیت کے تاریخی حقائق کو تسلیم کرنا، معافی مانگنا، ندامت کا اظہار کرنا اور ازالہ کرنا، یہ وہ سب سے اہم اقدام ہیں جو جاپانیوں کو اٹھانے چاہئیں۔
فوجیتا تاکاکیگے نے کہا کہ جاپانی حکومت ملک کو بتدریج “نئی عسکریت پسندی” کے خطرناک راستے پر دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ نہ صرف پرامن آئین کی روح کے منافی ہے بلکہ اس سے خطے کے ممالک کے سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ملک کے طور پر جس کا آئین امن پر مبنی ہے، جاپان میں مہلک ہتھیاروں جیسے بندوقیں، مشین گنز، راکٹ، میزائل اور جنگی جہازوں کی برآمد پر واضح پابندی موجود ہے۔لیکن اب، تاکائچی کابینہ اس اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کوجلد از جلد امن ، غیر عسکریت پسندی اور تخفیفِ اسلحہ کے راستے پر واپس لوٹنا چاہیے، بصورت دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، حتیٰ کہ تباہی و بربادی کی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

