اسلام آباد (سب نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ملک بھر میں نافذ پیٹرولیم لیوی اور نئی متعارف کردہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی اس آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اب ایک محدود ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی۔درخواست گزار کے مطابق پیٹرولیم لیوی عملی طور پر ایک ٹیکس کی شکل اختیار کر چکی ہے، جسے پارلیمنٹ کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ فائنانس ایکٹ 2025 کے تحت حکومت نے پیٹرولیم لیوی پر موجود قانونی حد ختم کر دی ہے، جبکہ ماضی میں اس کی حتمی مقدار پارلیمان طے کرتی تھی۔درخواست کے مطابق ففتھ شیڈول کے خاتمے کے بعد حکومت کو غیر محدود مالیاتی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، جوآئین، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی تقریبا 117 اعشاریہ41روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ یہ پیٹرول کی بنیادی ایکس ریفائنری قیمت کا تقریبا 42 سے 43 فیصد بنتی ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ لیوی کے علاوہ بھی مختلف ٹیکسز عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔درخواست گزار کے مطابق مالی سال 26-2025 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریبا 1 اعشاریہ47 ٹریلین روپے وصول کیے جانے کا تخمینہ ہے، جو وفاقی بجٹ کا تقریبا 8اعشاریہ3فیصد بنتا ہے، جبکہ اب تک مجموعی وصولیاں 6اعشاریہ3ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔نئی متعارف کردہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو بھی چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ حکومت نے اسے ماحولیاتی تحفظ کے نام پر نافذ کیا ہے، تاہم اس کے لیے نہ کوئی کلائمیٹ فنڈ بنایا گیا ہے اور نہ ہی شفاف احتسابی نظام موجود ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات آئین کی روح، صوبائی خودمختاری، مالیاتی نظم اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں، جبکہ عوام پر بھاری مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم نے آئینی عدالت میں پیٹرولیم لیوی اور توانائی کے شعبے میں ناانصافی کو چیلنج کیا ہے، ایکس ریفائنری قیمت میں 42 سے43 فیصد لیوی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم کی قیمتوں سے لیوی کا کوئی تعلق نہیں، حکومت ہزاروں ارب روپے لیوی کے نام پر لے چکی ہے، لیوی کو ریفائنریز کی اپ گریڈیشن پرخرچ کرنا تھا، ریفائنریزاپ گریڈ نہ ہونے کی وجہ سے ریفائنڈ تیل امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرول پر117روپے فی لیٹر لیوی لاگو ہے، روزصرف موٹرسائیکل والے سینکڑوں ارب روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز دے رہے ہیں جبکہ 1800ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹس بجلی کے شعبے میں گزشتہ سال وصول کی گئیں۔
