مکہ مکرمہ/اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے مکہ مکرمہ کے علاقے العزیزیہ میں قائم پاکستان حج میڈیکل مشن کے مرکزی کلینک کا تفصیلی دورہ کیا ۔ انہوں نے ہسپتال میں قائم مردانہ و زنانہ او پی ڈیز، فارمیسی، لیبارٹری، ڈینٹل یونٹ، الٹراسانڈ، ایکسرے اور فزیو تھراپی سمیت مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور علاج کے لیے آنے والے بزرگ، مرد اور خواتین عازمین سے طبی سہولیات کے معیار کے بارے میں دریافت کیا، جس پر حجاج کرام نے مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
مرکزی کلینک کے دورے کے موقع پر کرنل ڈاکٹر توقیر، لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر حمزہ منصور اور لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر جواد اسلم پر مشتمل طبی حکام نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب میں قائم تمام پاکستانی ڈسپنسریاں اور مرکزی کلینک سعودی وزارت صحت کی ریگولیشنز اور بین الاقوامی طبی ضوابط کے عین مطابق کام کر رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ عازمین حج کی چوبیس گھنٹے خدمت کے لیے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور جدہ میں مجموعی طور پر 36 ڈسپنسریاں اور کلینکس قائم کیے جا چکے ہیں ۔ اب تک مجموعی طور پر 61,413 آٹ ڈور مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی جا چکی ہیں ۔ اس کے علاوہ میڈیکل مشن اب تک 874 لیبارٹری ٹیسٹ، 1,009 ڈینٹل پروسیجرز، 347 ایکسرے، 171 الٹراساونڈ، 129 ای سی جی اور معمولی آپریشنز و ڈریسنگ کے 745 پروسیجرز کامیابی سے سرانجام دے چکا ہے ۔ سنگین حالت کے حامل 30 مریضوں کو سعودی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جن میں سے 27 مریض صحت یاب ہو کر ڈسچارج ہو چکے ہیں ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے حج میڈیکل مشن کے انتظامات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ عازمین کے لیے ادویات، معائنے اور لیبارٹری سمیت ہر قسم کی جدید سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے موجود ہیں اور پاکستان سے لائی گئی کروڑوں روپے کی معیاری ادویات حجاج کو بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ میڈیکل مشن کے لیے حاصل کی گئی عمارت انتہائی شاندار ہے جہاں نہ صرف تمام طبی شعبوں کا بہترین اہتمام ہے بلکہ یہاں تعینات ڈاکٹروں کی رہائش کا بھی مناسب انتظام کیا گیا ہے، جبکہ عازمین کو لانے اور لے جانے کے لیے ایمبولینس سروس بھی چوبیس گھنٹے متحرک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماری کی حالت میں عازمینِ حج کو تکلیف کے باعث شکایات ہونا قدرتی امر ہے، لیکن جب ہمارے ڈاکٹرز اور طبی عملہ پوری توجہ اور اخلاق سے ان کا علاج کرتے ہیں تو حاجی مطمئن ہو جاتے ہیں۔
