اسلام آباد(آئی پی ایس ) ڈائریکٹر جنرل واٹر، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)سردار خان زمری نے کہا ہے کہ سی ڈی اے اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے پانی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور پانی کی پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جامع قلیل مدتی اور طویل مدتی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پانی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ختم کرنے کے لیے کئی بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر کیا جہاں انہوں نے تجارت اور صنعت کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والے تاجر برادری کے اراکین کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا۔سردار خان زمری نے شرکا کو بتایا کہ اسلام آباد کو اس وقت تقریبا 80 ملین گیلن کی دستیاب فراہمی کے مقابلے میں روزانہ تقریبا 120 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے سی ڈی اے نے شاہدرہ ڈیم، خان پور ڈیم کے اپ اسٹریم دھوتارا ڈیم اور تربیلا سے اسلام آباد تک 100 ملین گیلن پانی لانے کے لیے ایک میگا اقدام سمیت متعدد بڑے منصوبے شروع کیے ہیں۔
انہوں نے تربیلا منصوبے کو شہر کی مستقبل کی ضروریات کا طویل المدتی حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے میگا پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ پانی اور سیوریج کے مسائل کی نگرانی کے لیے وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہدرہ ڈیم کی تعمیر ڈیڑھ سے دو سال میں مکمل ہونے کی امید ہے جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی آئندہ تین سے چار سال میں نمایاں پیش رفت نظر آئے گی۔ڈی جی واٹر نے کہا کہ سی ڈی اے لیکیجز اور فرسودہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے پانی کے نقصانات کو کم کرکے آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریبا 25 سے 30 فیصد پانی لیکیجز کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے اور اتھارٹی کا مقصد متاثرہ پائپ لائنوں کی بحالی اور نیٹ ورک سسٹم کی جدید کاری کے ذریعے ان نقصانات کو 15 سے 20 فیصد تک کم کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈی اے چھوٹے واٹر ورکس کو اپ گریڈ کر رہا ہے اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے اقدامات کے ذریعے زیر زمین پانی کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کو گھریلو سطح تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے اور پانی کے تحفظ کے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے شہریوں میں آگاہی مواد تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاہدرہ ، سید پور اور بری امام جیسے چھوٹے واٹر ورکس کی کارکردگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ ٹیوب ویلز کو آوٹ سورس کیا جاے گا تاکہ ان کی فراہمی کو بھی بڑھایا جا سکے ۔سردار خان زمری نے کہا کہ سی ڈی اے پانی کی کمی کے علاقوں میں ٹینکر سروسز کو بھی بڑھا رہا ہے۔انہوں نے شرکا کو بتایا کہ سی ڈی اے نے اسلام آباد کے پانی کے انتظام میں طویل المدتی اصلاحات کے لیے عالمی بینک کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد کارکردگی کو بہتر بنانا، دیکھ بھال اور وسائل کا پائیدار استعمال کرنا ہے۔
انہوں نے سملی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی بحالی کے لیے فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون پر بھی روشنی ڈالی، جس کے دو سال کے اندر مکمل ہونے کی امید ہے۔ڈی جی واٹر نے اسلام آباد کے مستقبل کے پانی کے بنیادی ڈھانچے اور اگلے 50 سالوں کے لیے سپلائی کی ضروریات کے لیے جامع ماسٹر پلان کی تیاری کے لیے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کی حمایت کا بھی اعتراف کیا۔سیوریج اور پینے کے پانی کی آمیزش سے پیدا ہونے والی آلودگی سے متعلق شکایات کا جواب دیتے ہوئے سردار خان زمری نے کہا کہ سی ڈی اے متاثرہ لائنوں کو منقطع کرکے اور مسائل کے حل ہونے تک مکینوں کو مفت ٹینکر خدمات فراہم کرکے فوری طور پر شکایات کا ازالہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس طرح کے مسائل کی وجہ پرانے انفراسٹرکچر کو قرار دیا جہاں سیوریج اور واٹر سپلائی لائنیں ایک دوسرے کے متوازی چلتی ہیں۔قبل ازیں صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر محمود نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں رہائشیوں اور تاجر برادری کے تحفظات کو دور کرنے میں سردار خان زمری کی لگن اور ھمہ وقت دستیابی کو سراہا۔ انہوں نے شہر کو درپیش پانی سے متعلق اہم مسائل کو اجاگر کیا اور اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی کے تمام جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر عرفان چوہدری، آئی سی سی آئی کے سابق صدور محمد اعجاز عباسی، زاہد مقبول باصر داد اور صدر کونسل برائے تحفظ پانی اور سابق سینئر نائب صدر محمود وڑائچ نے بھی دارالحکومت میں پانی کے انتظام اور شہری خدمات کو بہتر بنانے کے حوالے سے اپنے خیالات اور تجاویز کا اظہار کیا۔اجلاس میں ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، اسحاق سیال، ثنا اللہ درانی، ذوالقرنین عباسی، روحیل انور بٹ، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، طاہر عباسی، سابق ایگزیکٹو ممبر زکریا ضیا، عباس ہاشمی اور انڈسٹری اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور سوال و جواب میں حصہ لیا۔
