بیجنگ (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دو روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق بیجنگ پہنچنے پر چینی نائب صدر ہان ژینگ نے امریکی صدر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر چین میں امریکی سفیر، امریکا میں چینی سفیر اور چین کے ایگزیکٹو نائب وزیرخارجہ ما ژاشو بھی موجود تھے۔امریکی صدر کے استقبال کے لیے تقریبا 300 چینی نوجوان بھی موجود تھے، جنہوں نے ہاتھوں میں امریکی اور چینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ٹرمپ کے ساتھ ان کے سرکاری جہاز میں آنے والوں میں ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ، ان کی بہو لارا ٹرمپ اور ایلون مسک بھی شامل تھے۔
چینی میڈیا کے مطابق اپنے دورے میں امریکی صدر چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔بیجنگ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چینی صدر شی جن پنگ سے ایران جنگ پر تفصیلی بات چیت ہوگی، وہ چینی صدر سے ملاقات میں چین کو امریکی منڈیوں کے لیے کھولنے کا کہیں گے۔خبرایجنسی کے مطابق تقریبا 9برس بعد کسی امریکی صدر نے چین کا دورہ کیا ہے، اس سے قبل صدر ٹرمپ نے 2017 میں چین کا دورہ کیا تھا۔امریکی صدر15مئی تک چین میں قیام کریں گے اس دوران ان کی چینی صدرسے اہم ملاقات بھی ہوگی۔سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں رہنما دو طرفہ تعلقات، عالمی تجارت، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ امریکا اور چین کے تعلقات میں نئی پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ عالمی معیشت اور خطے کی سیاست پر بھی اس کے اہم اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔دوسری طرف نجی ٹی وی سے گفتگو میں چیئرمین پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی چین میں چار تفصیلی ملاقاتیں ہیں، چینی اور امریکی صدر کی ملاقات بڑی اہمیت کی حامل ہے، ملاقات میں ٹھوس اور پختہ فیصلے کیے جائیں گے، امریکا ٹیرف کا معاملہ ملاقات میں رکھ سکتا ہے، چین کی بنیادی سوچ اقتصادی ہے، چین کے پاس بھی بڑے کارڈز ہیں، چین بھی چاہتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو۔مشاہد حسین سیدکا کہنا تھا کہ امریکی صدر ایران جنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، چین اور پاکستان یہی بات کر رہے ہیں کہ سیز فائر نہیں جنگ ختم ہو، امید ہے ایران امریکا جنگ سے متعلق دورہ چین کے بعد مثبت پیشرفت ہوگی، امریکا جنگوں میں پھنسا ہوا ہے، امریکا کے اقتصادی حالات ٹھیک نہیں، امریکا اور چین دونوں کے مشترکہ مفادات زیادہ ہیں، دورہ چین اہم ہے۔
