Friday, May 15, 2026
ہومتازہ ترینسیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی جرمن شہری اور سماجی کارکن مسز انیتا خواجہ کو جرمن صدرکی جانب سے کراس آف میرٹ ایوارڈ سے نوازا گیا

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی جرمن شہری اور سماجی کارکن مسز انیتا خواجہ کو جرمن صدرکی جانب سے کراس آف میرٹ ایوارڈ سے نوازا گیا

اسلام آباد (آئی پی ایس )سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی جرمن شہری اور سماجی کارکن مسز انیتا خواجہ کو جرمنی کے وفاقی صدر فرینک والٹرکی جانب سے آرڈر آف میرٹ آف دی فیڈرل ریپبلک آف جرمنی کے کراس آف میرٹ (فرسٹ کلاس) اعزاز سے نوازا گیا ہے۔مسز انیتا خواجہ، مرحوم محمد انور خواجہ کی اہلیہ ہیں، جو انور خواجہ انڈسٹریز کے بانی تھے۔ انہیں یہ اعزاز سیالکوٹ میں فٹبال سلائی کرنے والے مزدوروں اور دیگر شہریوں کی صحت اور تعلیم کے فروغ کے لیے زندگی بھر خدمات انجام دینے کے اعتراف میں دیا گیا۔مسز خواجہ کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں پاکستان میں جرمنی کی سفیرانالیپل نے انہیں کراس آف میرٹ (فرسٹ کلاس) کا تمغہ پیش کیا۔

تقریب میں مسز خواجہ کے اہل خانہ، دوست احباب، پاکستان میں مقیم جرمن آرڈر آف میرٹ کے دیگر اعزاز یافتگان اور قومی میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔1941 میں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پیدا ہونے والی مسز انیتا خواجہ(پیدائشی نام: باڈے)1971 میں ڈینسٹے اِن اوبرزی پروگرام(سروس ابراڈ)کے تحت بطور نوجوان نرس پاکستان آئیں۔ انہوں نے سیالکوٹ کے کرسچین میموریل اسپتال میں دائیوں اور بعد ازاں روایتی زچہ بچہ معاون خواتین کو تربیت دی، جس سے ضلع سیالکوٹ میں نومولود اور ماں کی شرح اموات میں نمایاں کمی آئی۔ یورپ میں مختصر قیام کے بعد انہوں نے 1975 میں مرحوم محمد انور خواجہ سے شادی کی اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود کا سلسلہ جاری رکھا۔1982 میں مسز انیتا خواجہ نے بیتھانیا اسپتال میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ایک ہیلتھ کلینک قائم کیا، جہاں بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی، جو ان کی صحت مند نشوونما کے لیے نہایت اہم ہے۔وہ 1986 تک اس کلینک سے وابستہ رہیں۔

اسی دوران انہیں ضلعی جیل کی خواتین قیدیوں کے لیے سماجی کارکن بھی مقرر کیا گیا۔1996 میں انور خواجہ انڈسٹریز نے مسز انیتا خواجہ سے کمپنی کے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی پروگرام کی تشکیل کی درخواست کی۔ سلیکٹ انور خواجہ انڈسٹریز ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن پروگرام کے ذریعے ہزاروں مزدوروں، خصوصا خواتین، اور ان کے خاندانوں کو مفت صحت اور تعلیم، بشمول بالغوں کی خواندگی، کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ہر بچے کی انفرادی تعلیمی ضروریات کے مطابق تعلیم فراہم کرنے کی حکمت عملی نے چائلڈ لیبر میں نمایاں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔مسز انیتا خواجہ آج بھی کی سربراہی کر رہی ہیں اور سیالکوٹ کے مزدوروں اور عام شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ان کی خدمات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔