کراچی (آئی پی ایس )انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے دوران ضابطہ کار اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی کے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ آئی جی سندھ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو واقعے کی فوری اور مفصل ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔
دفترِ سندھ پولیس تعلقاتِ عامہ کے مطابق اس واقعے میں ملوث متعلقہ تفتیشی افسر اور دیگر عملے کو فرائض میں کوتاہی برتنے پر فوری طور پر معطل کرنے اور انہیں گارڈن ہیڈ کوارٹر ساتھ رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔آئی جی سندھ نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک سینئر افسر کی سربراہی میں اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ پولیس ترجمان سید سعد علی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی گرفت سے بچنے والی ملزمہ کی عدالت میں پیشی جیسے حساس معاملے پر کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔اس اقدام کا مقصد پولیس کے اندر احتسابی عمل کو مضبوط بنانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ہائی پروفائل ملزمان کی منتقلی اور پیشی کے دوران سیکیورٹی کے تمام طے شدہ قواعد پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
ترجمان پولیس کے مطابق ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے والے افسران کے کردار کے تعین کے لیے انکوائری کی ہدایت جاری کردی گئی ہے، قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔کراچی پولیس کے تمام افسران و اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں، بغیر ہتھکڑی ملزمہ کی پیشی پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔ملزمہ نہ صرف منشیات فروشی کے ایک منظم نیٹ ورک کی سربراہی کررہی تھی بلکہ وہ درجنوں مقدمات میں بھی مطلوب تھی۔
