Tuesday, May 12, 2026
ہومتازہ تریناسلام آباد چیمبر آف کامرس میں ٹاک شوز کے سماجی اور اقتصادی اثرات پر سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں ٹاک شوز کے سماجی اور اقتصادی اثرات پر سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد(آئی پی ایس ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ میڈیا بیانیہ عوامی سوچ، سرمایہ کاروں کے اعتماد، سماجی رویے اور معاشی سمت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ منگل کو چیمبر ہاس میں منعقدہ “ٹاک شوز اور پاکستان پر ان کے سماجی اور اقتصادی اثرات” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہ جس میں یونیورسٹی کے طلبا، کاروباری رہنماں اور سینئر میڈیا پروفیشنلز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک جذبات پر مبنی ہے اور سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاری کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو استحکام، مواقع، انٹرپرینیورشپ، سرمایہ کاری، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور اقتصادی اصلاحات پر مبنی “گروتھ بیانیہ” کی ضرورت ہے

انہوں نے مزید کہا کہ تعمیری صحافت اور متوازن گفتگو سرمایہ کاروں کے اعتماد اور قومی استحکام کو مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا عام شہریوں کے رویے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور سنسنی خیز رپورٹنگ سے عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے، غیر رسمی معیشت کو وسعت ملتی ہے اور معاشی اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے ٹاک شو کے میزبانوں پر زور دیا کہ وہ بیداری، ذمہ دارانہ صحافت، تعمیری قومی مکالمے کو فروغ دیں اور معیشت، برآمدات، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور قومی اتحاد پر زیادہ توجہ دیں۔”میڈیا بیانیہ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد” پر پینل ڈسکشن کے دوران، ملٹی میڈیا جرنلسٹ اطہر کاظمی نے کہا کہ میڈیا آہینے کی طرح معاشرے کے رویوں کی عکاسی کرتا ہے اور صنعت میں بعض کمزوریوں کے باوجود اسے منفی پہلوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ میجر جنرل (ر) سمریز سالک، سابق ڈی جی این ڈی یو نے کہا کہ معیشت کا فروغ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور یہ کہ ٹاک شوز معیشت اور سماجی مسائل پر زیادہ توجہ دیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر لائسنسنگ پیمرا، وکیل خان نے کہا کہ میڈیا کے شعبے میں خبروں، تفریح، علاقائی چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کے لیے جاری کیے گئے متعدد لائسنسوں کے ساتھ نمایاں ترقی ہوئی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ فرضی خبروں اور سنسنی خیزی کو روکنے کے لیے ذمہ دارانہ صحافت، خبروں کی صداقت اور موثر ادارتی نگرانی ضروری ہے۔ مشال پاکستان کے شریک بانی اور سی ای او عامر جہانگیر نے ریمارکس دیے کہ میڈیہ کو عوامی اعتماد اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے فروغ پر مرکوز رہنا چاہیے۔”غیر رسمی معیشت اور عوامی طرز عمل پر اثرات” کے عنوان سے دوسرے سیگمنٹ میں سفیر عمران علی نے کہا کہ پالیسی سازوں اور اداروں کو عوام کو درپیش حقیقی مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ اینکر پرسن فیصل رحمان نے مشاہدہ کیا کہ حکومتیں میڈیا کے بجائے اداروں، انتظامی نظاموں اور پالیسی فریم ورک کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ معروف صحافی ابوبکر نے میڈیا کو تصورات کی تشکیل اور ذہنیت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک طاقتور ٹول قرار دیا، جبکہ اینکر پرسن نیئر علی نے روشنی ڈالی کہ پولرائزیشن ایک عالمی رجحان ہے اور ضابطوں کا منصفانہ اور مستقل نفاذ اصل چیلنج ہے۔ آئی سی سی آئی کے سابق صدر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اخلاقی، انسان دوست اور ہمدرد افراد کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک تاجروں اور کاروباری افراد کو رول ماڈل کے طور پر عزت نہیں دی جاتی۔ محترمہ صائمہ سکھیرا، سینئر ایڈوائزر ٹریڈ اینڈ گورنمنٹ ریلیشنز، پاکستان برطانیہ بزنس کونسل نے اس سیشن کو متاثر کن انداز میں چلایا، جبکہ سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے اپنے ووٹ آف تھینکس میں تقریب کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے آئی سی سی آئی کی قائمہ کمیٹی برائے سسٹر سٹیز انیشیٹوز کے کنوینر ساجد اقبال اور ان کی پوری ٹیم کو سراہا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔