Thursday, May 7, 2026
ہومتازہ ترینپاکستانی عازمین کے منی قیام کیلئے انتظامات حتمی مراحل میں داخل،سکینگ گیٹ نصب،خیموں میں میڈیکل کلینک اورڈیجیٹل مارکنگ ہوگی، ذوالفقار خان

پاکستانی عازمین کے منی قیام کیلئے انتظامات حتمی مراحل میں داخل،سکینگ گیٹ نصب،خیموں میں میڈیکل کلینک اورڈیجیٹل مارکنگ ہوگی، ذوالفقار خان

مکہ مکرمہ(سب نیوز) حج 2026 کے مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے دنیا کی سب سے بڑی عارضی خیمہ بستی منی میں تیاریاں اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ کوآرڈینیٹر مکہ ذوالفقار خان نے میڈیا نمائندوں کو منی کے ماڈل کیمپس کا دورہ کراتے ہوئے بتایا کہ اس سال حجاج کرام کے لیے قیام و طعام اور دیگر سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنی عبادات ادا کر سکیں۔
ذوالفقار خان نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ عازمینِ حج کی سہولت کے لیے اس بار کیمپوں میں صوفہ کم بیڈ متعارف کرائے گئے ہیں۔ ہر خیمے میں بیڈز کی گنتی، نمبرنگ اور متعلقہ حجاج کے ناموں کی فہرستیں پہلے ہی آویزاں ہوںگی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ منی میں اکثر حجاج کو اپنا بیڈ تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا تھا، جسے ختم کرنے کے لیے تمام ڈیٹا کو پاک حج ایپ کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ ہر حاجی اپنے موبائل کے ذریعے اپنے مخصوص کیمپ اور بیڈ تک آسانی سے پہنچ سکے۔گرمی کی شدت کے پیشِ نظر کیمپوں کے اندر ایئر کنڈیشننگ اور وینٹیلیشن کے نظام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ کوآرڈینیٹر مکہ کے مطابق ہر 32 بیڈز کے بلاک کے لیے جدید ایئر کنڈیشنرز نصب کیے گئے ہیں، جن کی کارکردگی کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ خیموں میں حجاج کے سامان کے لیے ہینگرز اور اضافی جگہ کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ خیموں کے اندر ہجوم کا احساس نہ ہو۔طبی سہولیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ذوالفقار خان نے بتایا کہ کیمپوں کے اندر ہی ڈسپنسری اور میڈیکل کلینکس قائم کیے گئے ہیں۔
ان کلینکس میں ایک ڈاکٹر اور دو پیرامیڈکس ہمہ وقت دستیاب ہوں گے، جبکہ ہنگامی صورتحال کے لیے آکسیجن سلنڈرز اور فرسٹ ایڈ کی تمام ضروری ادویات بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی وزارت برائے مذہبی امور اور پاکستانی حکام کے باہمی تعاون سے یہ تمام انتظامات وقت سے کافی پہلے مکمل کر لیے گئے ہیں۔کوآرڈنیٹر مکہ ذوالفقار خان کا کہنا تھا کہ وزارتِ مذہبی امور کی پوری ٹیم عازمین حج کی خدمت کے لیے میدانِ عمل میں موجود ہے۔ عازمین حج کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ صرف مناسکِ حج کی ادائیگی پر مرکوز رکھیں، کیونکہ ان کے قیام، صحت اور آرام کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں نے بخوبی سنبھال لی ہے۔ڈیوٹی کوآرڈینیٹر آپریشنز مکہ صداقت علی اعوان نے کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیح صرف خیموں کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستانی عازمین کو ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنے مناسک ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک حج مشن کا عملہ چوبیس گھنٹے فیلڈ میں موجود رہے گا تاکہ اگر کسی حاجی کو اپنے کیمپ یا سہولیات کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اسے فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ صداقت اعوان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی حجاج کی خدمت کو عبادت سمجھ کر ادا کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔