Saturday, May 16, 2026
ہومدنیاخواتین کے ٹچ موبائل کے استعمال اور سنگھار پر پابندی عائد

خواتین کے ٹچ موبائل کے استعمال اور سنگھار پر پابندی عائد

حوثیوں کا انوکھا فیصلہ خواتین کے ٹچ موبائل کے استعمال اور سنگھار پر پابندی عائد کردی ۔یمن میں حوثی ملیشیا نے صنعا صوبے کے ایک گاوں کے شیوخ کو اس عہد پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں خواتین کو اسمارٹ فون اور میک اپ پاڈر کے استعمال سے روک دیں گے۔ اس عہد کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک دستاویز گردش میں آ رہی ہے۔ اس دستاویز پر صنعا صوبے میں بنی حشیش ضلع کے ایک گاوں کے شیوخ کے دستخط نظر آ رہے ہیں۔ دستاویز میں عہد کیا گیا ہے کہ خواتین کو ٹچ موبائل کا استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔ جو کوئی اپنی بیوی کو مذکورہ موبائل دے گا اس پر 2 لاکھ یمنی ریال اور ایک عدد گائے دینے کا جرمانہ عائد ہو گا۔دستاویز پر غضران گاوں کے شیوخ اور عمائدین کے علاوہ علاقے میں حوثی ملیشیا کے نگراں ذمے داران کے بھی دستخط ہیں۔اسی طرح دستاویز میں یہ بات بھی منظور کی گئی ہے کہ خواتین بالخصوص کنواری لڑکیوں کو شادی کی تقریبات میں سجنے سنورنے یا چہرے کا پاڈر استعمال کرنے یا ٹیکسی میں محرم کے بغیر سوار ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔دستاویز کی ایک شق میں لڑکیوں کا امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق اس کا مقصد “جنسی بلیک میلنگ” روکنا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق حوثی ملیشیا نے صنعا صوبے اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین کی آزادی کو نشانہ بنانے اور اسے کچلنے کے حوالے سے اپنی کارستانیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ اقدامات مختلف عنوانات کے تحت کیے جاتے ہیں جن میں مذہبی فرقہ واریت پر مبنی نمایاں ترین ہیں۔اس سے قبل حوثی ملیشیا نے جامعات میں متعدد فیصلے لاگو کیے۔ یہ فیصلے مرد اور خواتین کے اختلاط، گریجویشن تقریب، مقامات عامہ پر لباس اور نشست، خواتین کے کیفوں کی بندش وغیرہ سے متعلق ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔