Saturday, May 9, 2026
ہومکالم وبلاگزملک کو بحرانوں سے نکالنے کا فارمولا

ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا فارمولا

تحریر: میاں عبدالحمید
پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے 74سال گزر چکے ہیں ، یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا جس کی خاطر ہماری قوم نے بے پناہ قربانیاں دی تھیں لیکن بدقسمتی سے جس مقصد کیلئے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ہم ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوسکے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ابھی تک ہم نے اصل منزل کی طرف سفر شروع ہی نہیں کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو بے پناہ خوبیوں سے نواز رکھا ہے اور یہ ملک تمام نعمتوں سے مالا مال ہے ،مثلاً ہمارا ملک زرعی لحاظ سے بہت زرخیز ہے جس میں ہر قسم کی اجناس اور فصلیں پیدا ہوتی ہیں، اس ملک میں پانی کی کوئی قلت نہیں بلکہ یہاں ڈیموں ،دریاؤں اور نہروں کا جال بچھا ہو اہے ، ہمارے ملک کے سنگلاخ پہاڑ ہر قسم کی معدنیات سے بھرے پڑے ہیں، اس ملک میں کشمیر، گلگت اور ناران کاغان جیسی جنت نظیر وادیاں موجود ہیں ، ہماری فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے ، ہمارے ملک کا دفاع انتہائی مضبوط ہے اور ہمیں ایک عظیم ایٹمی طاقت ہونے کا شرف حاصل ہے لیکن ان تمام نعمتوں اور وسائل کے باوجود ہم آج تک نہ ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہوسکے اور نہ ہی ترقی پذیر ممالک میں ، دراصل بدقسمتی سے روزاول سے ہی ہمارا ملک آزمائشوں اور سازشوں کی آماجگاہ بنا رہا ہے،یہاں تک کہ ان سازشوں سے بانی پاکستان اور محسن پاکستان قائداعظم محمد علی جناح بھی محفوظ نہ رہ سکے ، ان کے بعد بھی بڑی بڑی خوبیوں کے مالک ،محب وطن اور مدبر قسم کے سربراہان بھی قربانیوں کے بھینٹ چڑھتے رہے ،جن میں خان لیاقت علی خان جیسے درویش صفت انسان کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیا، ایوب خان جو اگرچہ مارشل لاء کے ذریعے برسراقتدار آئے تھے لیکن ان کے دور میں ملک میں کافی ترقی ہوئی مگر وہ بھی بڑے بے آبرو ہو کر رخصت ہوئے ، ان کے بعد ان کے جانشین صدر جنرل یحییٰ خان جن کے دامن پر پاک فوج کی تذلیل ، سقوط ڈھاکہ اور پاکستان کی شکست کا داغ لگا ہوا ہے وہ اپنے گھر میں نظربندی کے دوران اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ،ان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو جو ایک عظیم لیڈر کے طور پر ابھرے تھے اور انہیں اسلامی دنیا کا قائد بننے اور اس ملک کو متفقہ آئین د ینے کا شرف حاصل ہوالیکن آخر کار تختہ داران کا مقدر بنا ۔ان کے بعد ضیاء الحق جو اسلامی نظام کے داعی بن کر مارشل لاء کی چھتری میں اقتدار پر براجمان ہوئے تھے ان کا انجام بھی کوئی اچھا نہیں ہوا، ان کے بعد بین الاقوامی شخصیت کی حامل محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے بعد میاں محمد نوازشریف جو ایک طویل عرصہ تک حکمرانی کرتے رہے لیکن ان کی رخصتی بھی بڑے عبرتناک انداز میں ہوئی ۔ ان تمام حکومتوں اور حکمرانوں کے دردناک انجام کے بعد اب موجودہ حکمرانوں کے ساتھ قوم کیا سلوک کرتی ہے وہ تو آنے والاوقت ہی بتائے گا۔لیکن موجودہ حالات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کا انجام بھی پہلے والوں سے مختلف نہیںہوگا ،ان تمام حالات کی روشنی میں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارا موجودہ نظام بری طرح ناکام ہوچکا ہے ، اس لئے اس نظام میں از سر نو اصلاحات لانے کی ضرورت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی ایسی قوت یا ادارہ ہے جو اصلاحات لانے کی ذمہ داری دیانتداری اور جانبداری سے ادا کرسکے ۔دراصل اصولی طور پر تو یہ اصلاحات پارلیمنٹ کے ذریعے لائی جانی چاہیئں لیکن چونکہ پارلیمنٹ کے فیصلے بھی ہمیشہ حکومت کی مرضی اور ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں ۔اس لئے یہ فیصلے ہمیشہ کیلئے دیرپا ثابت نہیں ہوتے اس لئے میری تجویز ہے کہ ملک میں ایک ایسا ادارہ یا کمیشن بنایا جائے جس کو تھنک ٹینک ، مانیٹرنگ کمیشن ، ثالثی کمیشن معائنہ کمیشن یا کوئی اور مناسب نام دیا جائے ۔ اس ادارے میں تمام طبقوں کی نمائندگی ہونی چاہیے اور اس میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے جو خالصتاً غیر جانبدار اور غیر متنازعہ ہوں ، ان لوگوں میں سابق فوجی جرنیل ، سابق جج صاحبان، سابق بیوروکریٹس ، ٹیکنوکریٹس ،آئینی اور قانونی ماہرین ،دانشور حضرات ، صحافی برادری اور علماء کرام کو شامل کیا جاسکتا ہے بلکہ ان میں ایسے سیاست دانوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جو ملک میں اہم ذمہ داریاں کامیابی سے ادا کر چکے ہوں ، پھر اس طرح کے لوگوں پر مشتمل کمیشن اپنی صلاحیتوں اورتجربات کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے عوام الناس سے بھی بذریعہ ذرائع ابلاغ تجاویز حاصل کرنے کے بعد جامع قسم کی اصلاحات کا مسودہ تیار کر کے پارلیمنٹ میں پیش کرے اور پھر پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اس کمیشن کو یہ اختیار بھی ہونا چاہیے کہ وہ ان اصلاحات پر عمل درآمد کرانے اورمانیٹرنگ کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کر سکے ۔ اس کے علاوہ جب ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی سیاسی ڈیڈلاک پیدا ہوجائے یا کوئی بحران پیدا ہوجائے تو اس کمیشن کے ذریعے ثالثی کا کردار بھی کروایا جا سکتا ہے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔