(تحریر: رقیہ نعیم (اسلام آباد
@NaeemRuqia
کسی بھی ملک کی ثقافت کا اندازہ اس کے لباس،خوراک رہن سہن اور روایات لگایا جاتا ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہے اوراس خطے کی زمین اتنی زرخیز ہے کہ یہاں سے اگنے والی اجناس نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ اسے بیرون ملک برآمد کرکے بھی ملکی معیشت کو مضبوط کیا جاتا ہے۔اس خطے کی سرزمینوں کی طرح یہاں کے باسی بھی زندہ دل ہیں اور اپنے کلچر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی کھانے اورپاکستانی لباس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ہمارے کھانے ہماری پہچان ہیں اور اگر بات کی جائے خالص کھانوں کی کراچی سے خیبر تک ہرشہر،ہر علاقے کے روایتی کھانے اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے مشہور ہیں۔
سوہانجنا
جب بات کھانے کی ہو تو فوری طور پر ذہن میں دیسی کھانوں کا خیال آتا ہے اور جب دیسی کھانوں کی بات ہو تو سوہانجنا کا ذکر نہ کیاجائے ایسا ہو نہیں سکتا۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب خاص طور پر جنوبی پنجاب میں پایا جانے والا درخت جسے اردو اور پنجابی میں سوہانجنا اور انگریزی میں مورنگا کہتے ہیں کو کرشماتی درخت بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس درخت کے پھولوں کو توڑ کر ایک خاص قسم کی ڈش تیار کی جاتی ہے جسے بچے بڑے سبھی بڑے شوق سے کھاتے ہیں اورپھولوں کوخشک کرکے بھی پکایا جاتا ہے،جواپنی منفرد غذائیت کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے۔ سوہانجنا گوشت ہرایک کی پسندیدہ ڈش ہے۔ سوہانجنا کے درخت کو معجزاتی درخت کیوں کہا جاتا ہے اس پر جو تحقیق ہوئی ہے وہ زیادہ پرانی نہیں ہے۔90کی دہائی کے بعد اس پر جو ریسرچ ہوئی ہے اس میں 300سے زائد بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے عالمی سپر فوڈ کا نام دیا گیا ہے۔ زرعی ماہرین اورسائنسدانوں کے مطابق زمین میں اگنے والی تمام چیزوں کا سردارسوہانجنا کے درخت کوکہا جاتا ہے اوراگراس کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو اس کی افادیت کا اندازہ ماہرین کو اس وقت ہوا جب افریقہ کے علاقے سری گال میں قحط آیا تو وہاں مختلف لوگوں نے امدادی سامان خوراک وغیرہ بھجوائی تاہم ایک چرچ کی جانب سے ایک شخص کو سوہانجنا کے درخت بھجوائے گئے۔ جب لوگوں نے اس شخص سے پوچھا اور کہا کہ کوئی خوراک لے کرجا رہا ہے اور آپ یہ تو انہوں نے جواب دیا جب آپ کی خوراک ختم ہو جائے گی تو یہ کام آئے گا۔ اور اس طرح افریقہ میں اس درخت کو اگایا گیا اوراسی سے قحط کا خاتمہ کیا گیا اور درخت کے ذریعے پانی کو صاف کیا گیا
سوہانجنا کی افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سوہانجنا کا درخت چاہے اس کی پھلی ہو،پھول ہو،تنا ہو،جڑ ہویا چھال ہو ہرچیز کارآمدہے اور اس میں غذائیت پائی جاتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق پالک میں آئرن ہوتا ہے اورسوہانجنا میں پالک سے نو گنا زیادہ آئرن پایا جاتا ہے۔اسی طرح کیلے میں پوٹاشیم ہوتا ہے اور سوہانجنا میں کیلے سے چار گنا زیادہ پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔گندم میں فائبر ہوتا ہے اورسوہانجنا میں گندم سے چار گنا زیادہ فائبر ہے۔اسی طرح گاجروں میں وٹامن اے ہے اور سوہانجنا میں گاجر سے دو گنا زیادہ وٹامن اے پایا جاتا ہے۔سوہانجنا میں کینو چار گنا زیادہ وٹامن سی،دہی سے دس گنا زیادہ پروٹین اور دودھ سے چودہ گنا زیادہ کیلشیم اس میں پایا جاتا ہے۔سوہانجنا کی کاشت جنوری سے اپریل تک ہوتی ہے اور ان پھولوں کو توڑ کرسوہانجنا کی ڈش تیار کی جاتی ہے اور یہ ڈش جنوبی پنجاب میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔
ساگ
جنوبی ایشیا میں جاڑے کا موسم صحت کے لحاظ سے زیادہ سازگار ہوتا ہے پرانے لوگ کہتے تھے کہ کھانے کا موسم جاڑے میں ہوتا اس موسم میں ساگ ہر ایک کی پسندیدہ ڈش ہوتی ہے۔جاڑے کے موسم نے انگرائی لی اور سرسوں کے کھیت لہلہا اٹھے اورپنجاب کا کسان خوشی سے جھوم اٹھا۔سرسوں کا ساگ،مکئی کی روٹی اور لسی کا گلاس پنجاب کے باسیوں کا من بھاتا کھانا اور سردیوں کی سوغات ہے۔
جڑ والی سبزیوں سے بنی ڈشیں
جڑوالی سبزیاں غذائیت کا پاور ہاؤس ہیں۔ زمین کے اند ر پیدا ہونے والی سبزیوں کا رنگ واجبی سا ہوتا ہے لیکن یہ ہمیں تواناتی دیتی ہیں اور اگران کو پکانے میں توجہ دی جائے تو یہ ایک صحت مند زندگی کا ضامن ہیں۔آلو،گاجر،ادرک،لہسن،شلجم،ککڑی،چقندر،اروی،مولی،شکر قندی اور پیاز آج ہماری روزمرہ کی زندگی میں شامل ہیں۔ شلجم کا کریمی سوپ،ہلکے مصالحے سے بنا بھرتہ،اور گوشت کے ساتھ پکایا جائے تو بہت مزہ دیتا ہے پالک گوشت اور پالک پنیر کا بھی جواب نہیں اسی طرح سفید،سرخ،پیلی اور کالی گاجر کا حلوہ سردیوں کے موسم کی سوغات ہے بادام،پستے سے سجا حلوہ جہاں دستر خواں کو سجا دیتا ہے وہی کھانے کے بعد اس کو کھا کر کھانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔گاجر سے گجریلا اور گاجر کی کھیر بھی بنائی جاتی ہے۔
اگر بات ہو خالص کھانوں کی تو خالص مکھن کے پیڑوں میں دال مکھنی لذت اور ذائقے میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
پنجاب کے دیسی کھانے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

