فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے جاری کی گئی نئی ویڈیو نے دنیا بھر میں ایک بار پھر غزہ کی صورتحال اور یرغمالیوں کے حالات پر گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
ویڈیو میں 24 سالہ اسرائیلی یرغمالی ایویاتار ڈیوڈ ایک تنگ و تاریک سرنگ میں نڈھال حالت میں زمین کھودتا دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو میں نوجوان کہتا ہے:
’یہ میری قبر ہے… میرے پاس وقت کم ہے‘۔
یہ منظر نہ صرف ایک قیدی کی کربناک حالت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سرزمین پر جاری انسانی بحران کو بھی آشکار کرتا ہے جہاں غذائی قلت، بمباری اور طبی سہولیات کی نایابی معمول بن چکی ہے۔
خوراک کا بحران اور انسانی المیہ
اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں خوراک کی شدید کمی ہے، جس سے نہ صرف شہری بلکہ یرغمالی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
سرنگوں میں چھپے ان قیدیوں تک دوا، پانی اور خوراک کی رسائی تقریباً ناممکن ہے۔
حماس کا مؤقف:
ویڈیو کے اجرا کے بعد حماس نے واضح کیا کہ وہ دباؤ میں آکر ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا:
’جب تک مستقل اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، مزاحمت جاری رہے گی۔ اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے‘۔
اسرائیل کا ردعمل
اسرائیلی حکومت نے ویڈیو کو ’نفسیاتی تشدد‘ کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے حماس پر شدید تنقید کی ہے۔
یاد رہے کہ یہ دوسری ویڈیو ہے جو حماس نے صرف 48 گھنٹوں میں جاری کی۔
پہلی ویڈیو میں بھی یرغمالیوں کی نازک جسمانی حالت، نفسیاتی دباؤ، اور ناموافق ماحول کے آثار نمایاں تھے۔
اسرائیل کے مطابق غزہ میں اب بھی 49 یرغمالی زندہ ہیں، جبکہ 27 کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
