اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈی جی سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ کے ممبران، اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں اسلام آباد شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کی بیوٹیفکیشن اور شجرکاری کو افتتاح سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے اطراف لینڈ سکیپنگ کا کام شروع ہوچکا ہے اور یہاں اربن فاریسٹ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جاسکے۔
فیض آباد انٹرچینج کی توسیع پر بھی بات چیت ہوئی۔ بریفنگ کے مطابق، منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے اور اگلے ماہ تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز متوقع ہے۔ مزید یہ کہ شہر میں ٹریفک مسائل کے حل کے لیے 20 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے 11 پر کام مکمل کر لیا گیا جبکہ 9 پر اقدامات جاری ہیں۔
شہر کی خوبصورتی کے لیے اہم شاہراہوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام تیزی سے جاری ہے۔ پینٹ اور کرب سٹون سمیت دیگر کاموں پر بریفنگ دی گئی۔ شاہین چوک انڈر پاس کے ڈیزائن کی جلد تکمیل کی ہدایت بھی اجلاس کا حصہ رہی۔
مزید بریفنگ میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں ہاسٹل اور ہسپتال کی تعمیر، پاک سیکریٹریٹ کی اپ گریڈیشن، اور مختلف اہم شاہراہوں جیسے مارگلہ روڈ، مری روڈ، فیصل ایونیو، اور ڈپلومیٹک انکلیو میں ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب کے حوالے سے جاری ٹینڈرنگ پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
ڈپلومیٹک انکلیو کی تزئین و آرائش، شاپنگ سینٹر کے قیام، اور داخلی و خارجی دروازوں کے نئے ڈیزائنز میں پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ گندھارا سٹیزن کلب کی اپ گریڈیشن اور ماڈل نرسری پر بھی کام جاری ہے۔
اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری، پی ڈبلیو ڈی سے ٹرانسفر شدہ منصوبوں کی فہرست و رپورٹ، اور سیکٹر ڈویلپمنٹ کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے سیکٹر C-14، C-15، E-12، I-12 اور پارک انکلیو کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پارک انکلیو فیز I اور II کے گیٹس اور باؤنڈری وال کے تخمینے اور ڈیزائن مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ سیکٹر I-15 کے 85 فیصد ترقیاتی کام مکمل ہو چکے ہیں۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے ہدایت دی کہ سیکٹر ڈویلپمنٹ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر ختم کیا جائے تاکہ شہری ضروریات کو پورا کرتے ہوئے نئے منصوبوں کا بروقت آغاز کیا جا سکے۔
