واشنگٹن ، امریکی وزارت خارجہ اور یورپی یونین نے افغانستان میں طاقت کے زور پر قبضہ کرنے والے کو تسلیم نہ کرنے پیغام دیا ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ طالبان کو امریکا کا پیغام وہی ہے جو قطر مذاکرات میں شریک تمام ملکوں کا پیغام ہے کہ ہم کسی ایسی قوت کو تسلیم نہیں کریں گے جو افغانستان پر طاقت کے زور سے قبضہ کرنا چاہتی ہو۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نڈپرائس نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور عدم استحکام پر تشویش ہے،افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے باعث سکیورٹی کی صورتحال مخدوش ہے،امریکی اپنے سفارتی عملے کی سکیورٹی اور حفاظت کیلئے فکر مند ہے۔انہوں نے کہا کہ سفارتی عملے کی حفاظت کیلئے کابل کے ہوائی اڈے پرعارضی طور پر امریکی فوجی تعینات کیے جائینگے،افغانستان میں امریکی سفارتخانہ بدستور کھلا رہے گا اورسفارتی کام جاری رہے گا۔ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکی شہری واپس بلانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم افغان عوام کو تنہا چھوڑ دیں گے، امریکا نے افغانستان میں ہر شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے۔نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن نے افغان فوج کے لیے تین ارب تیس کروڑ ڈالر کی رقم رکھی ہے، افغانستان میں امریکی سفارتخانہ کام کرتا رہے گا۔
امریکی شہری واپس بلانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم افغان عوام کو تنہا چھوڑ دیں گے، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
