تحریر: ماریہ بلوچ
@ShezM __
نبیﷺ نے قرب قیامت کی احادیث میں اپنی امت میں تفرقے کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب امت فرقوں میں بٹ جائے گی حدیث میں ان فرقوں کی تعداد 72 بتائی گئی ہے۔ اور حق پر صرف وہ فرقہ ہو گا جو سنت نبوی ﷺ اور اصحاب رسول ﷺ کے طریقہ پر ہو گا۔۔
اس وقت جب نبی اکرم ﷺ یہ حدیث بیان کررہے ہوں گے صحابہ کرام کس قدر متعجب ہوئے ہوں گے کہ یارسول اللہ ﷺ ایک خدا ایک پیغمبر ایک شریعت کے ماننے والے کس طرح اس قدر تفرقے کا شکار ہونگے؟؟؟؟؟
لیکن بدقسمتی سے ہم امت کے وہ لوگ ہیں جو اس دور میں آئے اور ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ کس طرح امت محمدﷺ واقعتا قریب قریب اتنے ہی فرقوں میں بٹ چکی ہے۔۔۔ ہر کوئی خود کو حق اور سچ پر سمجھتا ہے ۔۔۔ آخر اس سب کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہو گی ۔۔ کس طرح امت کا شیرازہ بکھرا ہوگا؟؟
دراصل جیسے ہی نبی ﷺ کے بعد صحابہ کا دور آیا لوگ شکوک و شبہات میں پڑنے لگے اور یہ سلسلہ نسل در نسل بڑھتا گیا۔
آج اگراس نوجوان نسل کو اس کا شکار دیکھتی ہوں تو محض ایک وجہ سمجھ آتی ہے اور وہ وجہ ہے “اللہ سے تعلق کی کمزوری”
جیسے جیسے اللہ سے تعلق کمزورہوتا چلا جاتا ہے ہم شکوک میں داخل ہونے لگتے ہیں۔
ہم قرآن کو اس کی کتاب تو مانتے ہیں مگر جو اس کتاب میں ہمارے لیے احکامات ہیں ان کی نت نئ تاویلیں اور توجیہات بناتے ہیں۔۔۔
ہم قرآن و حدیث کے ان احکامات کو اپنے لیے چنتے ہیں جن پر ہمارا دل راضی ہو۔
توحید و رسالت پر ایمان وعمل سے زیادہ ضروری ہم فقہی و اختلافی مسائل پر بحث کرنا سمجھتے ہیں۔
کسی بھی اختلاف کی صورت میں ہم یہ نہیں سوچتے کہ نبی ﷺ اور صحابہ اس صورتحال میں کیا کرتے بلکہ ہم یہ دیکھنے لگتے ہیں ہمارے آباواجداد نے کیا کیا؟؟ یا ان مذہبی رہنماوں کی تقلید کرتے ہیں جن کے حوالے ہم نے قرآن کو کر رکھا ہے ۔
ہمارے نوجوان اپنی محنت و ہمت اس بات پر خرچ کرتے ہیں کہ فلاں صحابہ کا فلاں وقت میں کیا عمل غلط تھا یا ہم صحابہ میں کس طرح درجہ بندی کرسکتے ہیں؟۔ کسی ایک صحابی کو کسی دوسرے صحابی پر اپنی کمزور اور ناقص عقل کے مطابق فوقیت دینے کو دین کی خدمت سمجھتے ہیں جو سراسر اللہ اوراس کے بندوں کے معاملات ہیں۔۔۔۔
ہماری یہی اصحاب میں غلطیاں نکالنے والی روش ہمیں اس حد تک لے گئی کہ ہم نے احادیث میں اختلاف کرنا شروع کر دیا جو احادیث ہماری منشا کے خلاف معلوم ہوتیں ہم ان کی سند پر اعتراضات کرنے لگے اور حد یہاں تک پہنچ گئی کہ ہم میں سے کچھ نے احادیث کی موجودگی کا ہی انکار کرنا شروع کردیا ہے۔
ہمارے لیے یہ بحث زیادہ اہم ہوگئی کہ نماز ہاتھ کھول کر پڑھنی ہے یا باندھ کر۔۔ رفع یدین کرنا ہے یا نہیں لیکن یہ اہم نہیں رہا کہ پانچ وقت نماز کا حکم ہے جو ہر حال میں ادا کرنا ہے اور اس کو قبول صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات نے ہی کرنا ہے۔۔۔۔
ہم نے جب احکامات الہی سے زیادہ فقہان دین کے اختلافی مسائل کوترجیح دی وہی وقت ہمارے لیے تفرقہ کا بن گیا۔۔ جب امت نے نبی ﷺ کے بتائے دین کو چھوڑ کر اپنی مرضی سے دین اپنانا چاہا وہی لمحہ ہمارے زوال کی ابتدا بنا۔۔۔
آج ہم کسی نوجوان کو دین کا علم حاصل کرتا دیکھتے ہیں تو سب سے پہلے پوچھتے ہیں کہ کس فرقہ کی فقہہ پڑھ رہے ہو۔۔۔
ہمارے پاس وقت ہے ابھی بھی خود کو واپس اس راستے پر لانے کا جو راستہ اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کے توسط سے ہمیں دکھا دیا۔۔۔۔۔۔ ہمیں ان فرقوں سے نکل کر اللہ کے قریب ہونے کی اشد ضرورت ہے۔۔ دعا ہے اللہ ہمیں ہدایت کا راستہ دکھائے۔
