بغداد،جنوبی عراقی شہر ناصریہ میں واقع ایک ہسپتال کے کورونا آئسولیشن سینٹر میں آتش زدگی کے نتیجے میں کم از کم 44 افراد جاں بحق اور 67 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ہسپتال کے ایک ایسے حصے میں لگی، جو کورونا کی وبا کے دوران کووڈ انیس کے مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطاب قآگ ایک آکسیجن سلینڈر پھٹنے کے بعد بھڑکی۔ امدادی ٹیموں نے دھوئیں سے بھری اس عمارت میں مزید نعشوں کی تلاشی کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ دریں اثنا عراقی وزیر اعظم مصطفی الخادمی نے سینئر وزرا کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ناصریہ میں صحت اور شہری دفاع کے شعبوں میں کام کرنے والے ذمہ دار سرکاری ملازمین کی معطلی اور گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔عراق کے شہر ناصریہ کے ایک ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص یونٹ میں آگ لگنے سے کم از کم 52 افرادجاں بحق ہوگئے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ہسپتال میں آگ لگنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔عراقی محکمہ صحت کے مطابق وارڈ میں ایک آکسیجن سلینڈر کا پھٹنا، آگ لگنے کی وجہ بنا۔ اس وارڈ میں تقریبا 70 بستر تھے اور تین ماہ قبل ہی اسے قائم کیا گیا تھا۔مقامی محکمہ صحت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں جو وارڈ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے مخصوص تھا اس میں بھیانک آگ لگ گئی جس کی وجہ سے اب تک 52 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جبکہ دیگر 60 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا بیشتر متاثرین کی موت آگ سے جھلس جانے کی وجہ سے ہوئی۔ بعض افراد عمارت کے کسی کونے میں اب بھی کہیں پھنسے ہو سکتے ہیں اور اس لیے تلاش جاری ہے۔
عراق: کورونا وارڈ میں آتش زدگی کے باعث 52افراد جاں بحق
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
