Wednesday, June 10, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزحکومت نے مطالبات پر ٹیکنیکل کمیٹی بنا دی، مذاکرات کا سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہوگا، لیاقت بلوچ

حکومت نے مطالبات پر ٹیکنیکل کمیٹی بنا دی، مذاکرات کا سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہوگا، لیاقت بلوچ

اسلام آباد (سب نیوز )حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان تعطل شدہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جلد شروع ہوگا۔ جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آخری دور دو روز قبل 28 جولائی کو ہوا تھا، جس میں جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے اپنے دس مطالبات رکھے۔اس دوران حکومتی مذاکراتی ٹیم نے جماعت اسلامی کے وفد کو بتایا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنا مشکل ہیں، عالمی معاہدے ہیں جن کی پاسداری مجبوری ہے۔

مذاکرات کے اختتام پر حکومتی ٹیم نے جماعت اسلامی کے وفد کو کہا کہ آپ کا پیغام وزیر اعظم تک پہنچائیں گے، اور اس کے بعد 29 جولائی کو ہونے والا مذاکرات کا دور بنا کوئی وجہ بتائے نہ ہوسکا۔لیاقت بلوچ نے بتایا تھا کہ حکومت ان تمام چیزوں کے لیے ایک ٹیکنیکل کمیٹی بنائے گی اور اپنا ہوم ورک کرے گی، پھر مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا، لیکن دھرنا ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔تاہم، آج جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ لیاقت بلوچ نے حکومت نے ٹیکنیکل کمیٹی بنا کر مجھے ابھی اطلاع دی ہے، جس پر حافظ نعیم اور دیگر کمیٹی اراکین سے مشاورت کریں گے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشاورت کے بعد حکومتی ٹیم کو آگاہ کریں گے، مذاکرات کا سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوامی مسائل جلد سے جلد حل ہوں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں حکومت آئی ایم ایف اور آئی پی پیز کے معاہدوں کے دبا میں ہے، 25 کروڑ عوام دربدر ہوں تو پاکستان کی توہین ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کمیٹی کا پہلا رانڈ ہوگیا ہے، آج ٹینیکل کمیٹی کو نوٹیفائی کردیا گیا ہے، ٹیکنیکل کمیٹی کے دوسرے رانڈ کے وقت کا بھی تعین ہوگا، لیکن دھرنا اور مذاکرات ساتھ ساتھ جاری رہیں گے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کوئی بھی احتجاج ہو نتیجہ مذکرات سے نکلتا ہے۔ لیکن اگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی، عوام کے جذبات کا احساس نہیں کرتی تو پھر کراچی سے بھی دھرنے کا آغاز ہو رہا ہے، پشاور سے بھی ہوگا، لاہور اور کوئٹی کی طرف بھی جائیں گے، مری روڈ کے دھرنے کا اگلا مرحلہ بھی انانس ہوگا اور ساتھ ساتھ پورے ملک میں دھرنا اور احتجاج پھیلے گا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئی پی پیز کی 52 فیصد ملکیت حکومت کی ہے، 23 فیصد ملکیت چین کی سی پیک کے زریعے ہے اور 25 فیصد پاکستان کے مقامی سرمایہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چین سے بات چیت کر سکتے ہیں، چین اپنی دوستی کے بھرم میں ضرور ریلیف پر غور کرے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔