اسلام آباد،حریت رہنما عبدالحمید لون نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی کررہا ہے،مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو خواتین سمیت 20 کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے۔
اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 700دن مکمل ہوچکے ہیں،وادی میں لاک ڈاون اورکرفیو کا سماں ہے، کشمیری اپنے ہی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں ، حریت قیادت پابند سلاسل، نوجوانوں کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا جارہا ہے، بھارتی فورسز آئے روز نام نہاد سرچ آپریشن کررہی ہیں، دو ہفتوں کے دوران سری نگر، اسلام آباد، پلوامہ، سوپور اور شوپیاں میں نوجوانوں کو قتل کیا گیا ہے،بھارتی قابض افواج نے جعلی مقابلوں کے دوران ان افراد کو شہید کیا ہے۔عبدالحمید لون نے کہا کہ بھارتی قابض افواج نے تین دہائیوں میں ہزاروں کی تعداد میں کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے،بھارتی سرکار نے قابض افواج کو کشمیری عوام کے قتل عام کا لائسنس دے دیا ہے ،مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے روز بروز ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، کشمیری نوجوانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع افسوس ناک ہے ،تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل نہ ہونے کی وجہ سے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے،حریت رہنماوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا فوری طور پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔
