اسلام آباد (آئی پی ایس )اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈ ریفرنس میں آج کسی بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا جبکہ بشری بی بی نے پہلے عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور پھر وکلا سے مشاورت کے بعد اعتماد بھی کردیا، عدالت نے سماعت ہر 14 روز بعد کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر دیے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پانڈز ریفرنس کی سماعت کی جبکہ سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔سماعت کے دوران بشری بی بی غصے میں کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں، بشری بی بی شوہر کے پاس جانے کے بجائے الگ بیٹھی رہیں، وہ کمرہ عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے بھی نہیں ملیں۔کمرہ عدالت میں داخل ہونے کے تھوڑی دیر بعد بشری بی بی بھی غصے میں روسٹرم پر گئیں اور احتساب عدالت کے جج پر عدم اعتماد کردیا۔بشری بی بی نے کہا کہ پہلے کیسز کے ججز پر بھی اعتماد نہیں تھا، اس عدالت پر بھی عدم اعتماد کررہی ہوں، گزشتہ سماعت میرے بغیر کی گئی، میں انتظار کرتی رہی، جس پر جج ناصر جاوید رانا نے کہا کہ گزشتہ سماعت جیل انتظامیہ کی استدعا پر ملتوی کی گئی تھی۔بشری بی بی نے سماعت ملتوی ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور انہوں نے کہا کہ میں اس کیس میں قیدی نہیں ہوں، نا انصافی کی وجہ سے جیل میں ہوں۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ملزمان کے وکلا سے سوال کیا کہ کیا آپ کو عدالت پر اعتماد نہیں؟ وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ ہمیں عدالت پر اعتماد ہے، بشری بی بی سے مشورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔عدالت پر عدم اعتماد ختم کرنے کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی اور وکلا ڈیڑھ گھنٹے تک بشری بی بی کو سمجھاتے رہے، ڈیڑھ گھنٹے کی مشاورت کے بعد بشری بی بی اور وکلا نے دوبارہ عدالت پر اعتماد کا اظہار کر دیا۔
دوران سماعت بانی پی ٹی آئی بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر بشری بی بی کے ساتھ روسٹرم پر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے بشری بی بی کو فیملی کارنر میں چلنے کو کہا۔بشری بی بی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ بیٹھی اپنی بیٹیوں سے بھی نہیں ملیں، انہوں نے علیحدہ کمرے کے انتظام کے بعد اپنی بیٹیوں سے علیحدگی میں ملاقات کی۔سماعت کے دوران عمران خان ابتدا سے آخر تک پریشان نظر آئے، وہ کبھی وکلا، کبھی روسٹرم،کبھی بشری بی بی اور کبھی بہنوں کے پاس جاتے رہے، بشری بی بی اور عمران خان 5 سے 6 مرتبہ سرگوشیوں میں باتیں کرتے رہے۔وکلا اور بانی پی ٹی آئی نے عدالت سے بشری بی بی کو قائل کرنے کے لیے تین مرتبہ وقت مانگا، عدالت نے وکلا اور بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت میں تین بار وقفہ کیا۔ بشری بی بی عدالت سے باہر گئی اور ملاقات کے لیے بیٹیوں کو بھی باہر بلا لیا، ملزمان کے وکلا کی جانب سے مشاورت کے بعد عدالت میں نئی درخواست دائر کی گئی جس میں استدعا کی گئی کہ دیگر مقدمات کی طرح اس کیس کی سماعت بھی ہر 14 روز کے بعد کی جائے۔عدالت نے وکلا کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 22 مئی تک کے لیے ملتوی کر دی۔ 190ملین پانڈز ریفرنس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے کسی بھی گواہ کا بیان قلم بند نہ ہو سکا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز 190 ملین پانڈ نیب ریفرنس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر کل محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، اور سابق وزیر اعظم کی ضمانت 10 لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض منظور کی گئی۔اس کیس میں 27 فروری کو احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ناصر جاوید رانا نے کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی کرتے ہوئے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف فردجرم عائد کی تھی۔
