اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان اسپورٹس بورڈ کی طرف سے ملک کے مختلف شہروں میں ناتجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعہ کھلاڑیوں اور کوچز کو اینٹی ڈوپنگ کے آگاہی کورسز کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کا برا مقصد تربیت سے ذیادہ اینٹی ڈوپنگ فنڈ سے استفادہ کرنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں پی ایس بی کے میڈیا کوآرڈینیٹر اور موجودہ انچارج اکیڈمک ونگ شاہد اسلام ملک بھر میں کھلاڑیوں اور کوچز کے لئے اینٹی ڈوپنگ کورسز کرا رہے ہیں۔
جو کہ لاعلمی اور غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سپورٹس بورڈ اور اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن پر سوالیہ نشان ہے۔ یاد رہے کہ شاہد اسلام کے پاس اینٹی ڈوپنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے نہ ہی انھوں نے آج تک کوئی کورسز کئے ہیں۔ اور وہ دوران کورس کھلاڑیوں اور کوچز کے سوالات کا سامنا کرنے سے بھی قاصر رہے ہیں۔ شرکا سیمینار نے اینٹی ڈوپنگ جیسے اہم شعبہ میں ناتجربہ کار افراد کے ذریعہ کھلاڑیوں اور کوچز کی تربیت اور پاکستان میں اینٹی ڈوپنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات اور کھلاڑیوں کے مثبت رزلٹ نے پی ایس بی اور اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن آف پاکستان کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے شروع کر دئیے ہیں۔ اور ان سیمینار کو وقت کا ضیاع اور فنڈز کے ناجائز استعمال قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن آف پاکستان ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی طرف سے اینٹی ڈوپنگ کے تمام معاملات کا ذنہ دار ہے اور ماضی قریب میں ملک بھر میں تربیت یافتہ افراد کے ذریعہ ہی بہترین سیمینار منعقد کروائے جاتے رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شاہد اسلام گزشتہ دور میں سابقہ ڈی جی پی ایس بی سے ملی بگھت کر کے اینٹی ڈوپنگ کے متوازی تنظیم بنانے کے بھی بانی تھے جس کو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے سختی سے مسترد کردیا تھا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا۔ موصوف ایک مرتبہ پھر اینٹی ڈوپنگ کے نام پر فنڈ کے غیرضروری استعمال ،اپنے رفقا میں بندر بانٹ اور پاکستان میں اینٹی ڈوپنگ کے شعبہ میں اپنی اجارہ داری کیلئے کوشاںہیں۔
