لاہور،معروف لوک گلوکار، اداکار، فلمساز، صداکار اور کالم نگار عنایت حسین بھٹی کو مداحوں سے بچھڑے22برس بیت گئے،وہ 12 جنوری 1928 کو گجرات میں پیدا ہوئے، 1948 میں وہ قانون پڑھنے کی غرض سے لاہور منتقل ہوگئے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ انہوں نے ڈھائی ہزار کے قریب گیت ریکارڈ کرائے، چار سو سے زائد فلموں میں بھی کام کیا۔انھوں نے پبلک ہائی اسکول گجرات سے میٹرک کیا اور وکالت کی ڈگری حاصل کی اور وہ حافظ قرآن بھی تھے۔انہوں نے وارث شاہ، بلھے شاہ، خواجہ غلام فرید اور میاں محمد بخش سمیت دیگر عظیم صوفی شعرا کا کلام گا کر سننے والوں کے دلوں میں گھر کیا۔عنایت حسین نے 1950 کی دہائی میں فلم شہری بابو میں معاون کردار ادا کرکے اداکاری کا آغازکیا۔ عنایت حسین بھٹی نے فلم ہیر میں رانجھے اور وارث شاہ میں وارث شاہ کا کردار ادا کیا۔ ان کے گائے ہوئے گیت چن میرے مکھناں اور دنیا مطلب دی او یار آج بھی مقبول ہیں۔عنایت حسین بھٹی نے 500 فلموں میں 2 ہزار 500 کے قریب گانے ریکارڈ کرائے۔ انہوں نے 400 سے زیادہ فلموں میں کام کیا، جن میں 40 فلموں میں ہیرو کے روپ میں جلوہ گر ہوئے۔ انہوں نے 1967 میں اپنی ذاتی پروڈکشن کمپنی کے بینر تلے فلم چن مکھناں بنائی، جس نے کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔1965 کی پاک بھارت جنگ میں ریڈیو پاکستان لاہور سے عنایت حسین بھٹی کی منفرد اور گرج دار آواز میں ایک ترانہ بجتا تھا اے مردِ مجاہد جاگ ذرا، اب وقت شہادت ہے آیا اور اسی جنگی ترانے سے پاکستان میں قومی موسیقی کے باب کا آغاز ہوا۔ 31 مئی 1999 کو ان کی وفات سے پانچ عشروں پر محیط بے مثال کیریئر اختتام پذیر ہوا۔
عنایت حسین بھٹی کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
