اسلام آباد (سب نیوز)چیئرمین پی ٹی آئی کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسلام آباد اسپیشل برانچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات کے ساتھ ورکرز کو منتشر کرنے کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جائیں ۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی کے حوالے سے اسلام آباد اسپیشل برانچ نے پولیس حکام اور ضلعی انتظامیہ کو رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے پیشی پر تحریک انصاف کے تعلق رکھنے والے وکلا ،ورکرز آنے کا خدشہ ہے، عدالت میں پیشی سے قبل سیکیورٹی انتظامات سخت کیے جائیں، اور اس کے ساتھ ورکرز کو منتشر کرنے کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جائیں۔واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود کو پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو خصوصی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت کے لیے منگل 28 نومبر کو جوڈیشل کمپلیکس لایا جائے گا، اسکیورٹی پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے پولیس، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکمے کل پیر کو اجلاس کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے جوڈیشل کمپلیکس تک لے جانے کے لیے ترجیحی انتخاب پشاور روڈ ہو گا۔ منگل کو ریڈ زون کو جزوی طور پر سیل کئے جانے جبکہ فیض آباد، زیرو پوائنٹ، سری نگر ہائی وے پر دستوں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمپلیکس کو پولیس اور نیم فوجی دستے گھیرے میں لیں گے، علاوہ ازیں جوڈیشل کمپلیکس کی طرف جانے والے پوائنٹس اور سڑکوں کو سیل کیے جانے کا امکان ہے۔
