ہوماسلام آبادملک بھر کی تاجر برادری شام 6بجے کاروبار بند کرنے کے فیصلے سے پریشان ہے، سردار یاسر الیاس خان

ملک بھر کی تاجر برادری شام 6بجے کاروبار بند کرنے کے فیصلے سے پریشان ہے، سردار یاسر الیاس خان

اسلام آباد،اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہاہے کہ نیشنل کمانڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی)نے ماہ رمضان کے دوران عام کاروبار کو شام 6بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پورے ملک کی تاجر برادری اس فیصلے سے پریشان ہے کیونکہ اس سے ان کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی جبکہ اوقات میں کمی کرنے سے مارکیٹوں میں رش بڑھے گا جس سے کرونا مزید پھیلنے کا خدشہ ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور عام کاروبار کو رات 10 سے 12بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں کاروباری سرگرمیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں کیونکہ لوگ عید کی خریداری کرتے ہیں لیکن کاروباری اوقات کم کرنے سے نہ صرف عوام کو مشکلات درپیش ہوں گی بلکہ کاروباری طبقے کو بھی نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تا جر برادری کے نمائندہ اداروں کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائے اور یکطرفہ فیصلے کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ایسے فیصلے بعض اوقات کاروبار اور معیشت کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہو تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں نہ تو کاروباری طبقے کو کوئی فنانشل پیکج دیا گیا ہے اور نہ ہی ایف بی آر نے ٹیکسوں میں کوئی ریلیف دیا ہے لہذا ان حالات میں کاروبار کیلئے اوقات میں کمی کرنا مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ کرونا کی تیسری لہر پوری دنیا میں ہے لیکن دنیا کے کئی ممالک میں کاروبار ایس او پیز کے ساتھ نارمل اوقات کے تحت چل رہے ہیں جبکہ پاکستان جیسے ملک کیلئے کاروباری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنا معیشت کیلئے اچھا ثابت نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں تمام مارکیٹیں، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں بھی مارکیٹیں نارمل اوقات کے تحت کھلی ہیں لیکن پاکستان میں پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ لاک ڈائون کی وجہ سے پہلے ہی کاروباری طبقہ بھاری نقصان اٹھا چکا ہے اور بہت سے کاروبار بند ش کے دہانے پر پہنچ چکے تھے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کیلئے اوقات میں کمی کرنے کی بجائے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنا کر تمام کاروبار کو نارمل اوقات کے ساتھ چلنے کی اجاز ت دی جائے تا کہ کاروباری طبقے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے، بیروزگاری میں اضافہ نہ ہونے پائے اور معیشت مزید مشکلات کا شکار نہ ہو۔آئی سی سی آئی کے صدر نے تاجر برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنا کر کرونا کے پھیلا ئو کو روکنے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ دکانوں پر کام کرنے والوں کیلئے ماسک لازمی قرار دیا جائے اور ماسک کے بغیر کسی گاہک کو اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دکانوں پر کسی بھی صورت میں رش نہ بننے دیا جائے، دکانوں پر ہینڈ سینیٹائزرز رکھیں جائیں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کر کے ہی کرونا کی وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے اور کاروبار کو چلایا جا سکتا ہے لہذا تاجر برادری اس سلسلے میں بھرپور تعاون کرے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔