واشنگٹن (سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان وائٹ ہاوس میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں عالمی رہنماوں نے اپنی طاقتور مسابقت کو موثر انداز میں سنبھالنے اور مصنوعی ذہانت کو انسانی کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وائٹ ہاوس کے ساتھ لان میں منعقدہ ایک شاندار تقریب سے جمعرات کو اس دورے کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس میں فوجی فلائی پاسٹ، اوول آفس میں اہم مذاکرات اور باضابطہ اسٹیٹ ڈنر شامل ہے۔اس سے قبل بدھ کو 80 سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز ایئرپورٹ پر خود جا کر 73 سالہ چینی صدر کا استقبال کیا، جو گزشتہ 60 سے زیادہ سالوں میں کسی امریکی صدر کی جانب سے غیر ملکی سربراہِ مملکت کا ایئرپورٹ پر خود استقبال کرنے کا پہلا واقعہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی صحت سے متعلق تمام تر افواہوں کو رد کیا اور انہیں مکمل طور پر صحت مند، متحرک اور فٹ قرار دیا۔مذاکرات کا بنیادی محور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سپر انٹیلی جنس سے پیدا ہونے والے چیلنجز ہیں۔ جہاں صدر ٹرمپ مصنوعی ذہانت کے انسان کے لیے خطرہ ہونے کے خدشات کو مسترد کرتے رہے ہیں، وہیں صدر شی جن پنگ نے اس معاملے پر ایک محتاط اور سنجیدہ موقف اپنایا۔
وائٹ ہاوس میں گفتگو کرتے ہوئے چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی ترقی کو آگے بڑھائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مصنوعی ذہانت کا ارتقا ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے تاکہ اسے انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔اس موقع پر انہوں نے امریکی چڑیا گھر کو پانڈاز کی ایک جوڑی دینے کا اعلان بھی کیا، جسے چین کی روایتی پانڈا ڈپلومیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اہم ملاقات، مصنوعی ذہانت کو انسانی کنٹرول میں رکھنے پر اتفاق
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
