اسلام آباد،جسٹس قاضی فائز عیسی نظر ثانی کیس کی براہ راست سماعت سے متعلق درخواست مسترد کر دی گئی ،سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے نظر ثانی کیس براہ راست نشر کرنے کے حوالہ سے درخواست دی تھی جو مسترد کر دی گئی ہے ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔درخواست اکثریتی فیصلے کی بنیاد پر مسترد کی گئی، دس میں سے چھ ججز نے درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ دیا ،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گادوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیس کی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست مسترد کرنیکا مطالبہ کر دیا،عدالتی کاروائی ٹیلی ویژن پر دکھانے سے بہت سے مسائل پیدا ہونگے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بھارتی سپریم کورٹ سمیت جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کا حوالہ بھی دیا،سپریم کورٹ کی کاروائی عوام تک پہنچانے کیلئے میڈیا موجود ہوتے ہیں،میڈیا نمائندگان آسان زبان میں عدالتی کارروائی عوام تک پہنچاتے ہیں،میڈیا کے ہوتے ہوئے براہ راست کارروائی دکھانے کا کوئی جواز نہیں,ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت میں کہا کہ ججز مقدمہ سمجھنے کے لیے سوالات کرتے ہیں۔ ججز کے سوالات سے عام آدمی سمجھنے کی بجائے کنفوژ ہو گا۔ ججز کے کنڈیکٹ پر پارلیمنٹ میں بھی بحث نہیں ہو سکتی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے فلوریڈا کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلوریڈا کی عدالت نے ٹرائل کی براہ راست کوریج کی مخالفت کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترکردی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
