Thursday, May 21, 2026
ہومٹاپ سٹوریسپریم کورٹ کو آڈیوٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے،چیف جسٹس

سپریم کورٹ کو آڈیوٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے،چیف جسٹس

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطابندیال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے جسے آڈیوٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہاہے۔ آئینی اداروں کو بدنام کرنے والی ان آڈیوٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر تبادلہ کیس میں دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم صبر، درگزر سے کام لیکر آئینی ادارے کا تحفظ کریں گے۔ آئینی اداروں کو اپنے فیصلوں میں تحفظ دیا ہے، عدلیہ پر بھی حملے ہورہے ہیں،عدلیہ کا بھی تحفظ کریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے جسے تحفظ فراہم کریں گے، جمہوری عمل شفاف ہوناچاہیے۔ الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں لیکن اگرشفاف انتخابات میں بدنیتی ہوگی تومداخلت کریں گے۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا کہ بعض اوقات سپریم کورٹ کی باتوں کو غلط سمجھاجاتاہے، ہم نے یہ نہیں کہا آج تک صرف ایک ہی ایماندار وزیراعظم آیا بلکہ ایک کیس میں کہا کہ 1988میں ایک ایماندار وزیراعظم تھا، ہماری اس بات کو پارلیمنٹ نیغلط سمجھا۔
وکیل عابد زبیری نے کہا کہ میں نیغلام محمود ڈوگر کے فیصلے کیخلاف اپیل دائرکی، تبادلے کیخلاف غلام محمود ڈوگرکی اپیل واپس لیتا ہوں جس پر سپریم کورٹ نے غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی بنیادپر خارج کردی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بیوروکریسی میں تبادوں کی منظوری کے بعد معاملہ ویسے بھی غیر مثر ہو چکا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں برابری کا موقع ملنا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کو نگران حکومت کو تبادلوں کا کھلا اختیار نہیں دینا چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔