اسلام آباد، : وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ/ چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام محترمہ شازیہ مری نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ غیرمحفوظ ممالک کی فہرست میں شامل ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ آج اسلام آباد میں عالمی بینک کے وفد سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمیں پاکستان کو موسمیاتی آفات پر قابو پانے کیلئے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
امجد ظفر خان، سینئر سوشل پروٹیکشن اسپیشلسٹ مس میلس یو گوون، لیڈ اکانومسٹ، زینب مجوکا، سوشل پروٹیکشن اکانومسٹ اور مسٹر گل نجم جامی پر مشتمل عالمی بینک کے چار رکنی وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ( بی آئی ایس پی ) کا دورہ کیا اوربی آئی ایس پی کے مختلف اقدامات اور پروگراموں پر تبادلہ خیال کیا۔
محترمہ شازیہ مری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص BISP عالمی بینک (WB) کے ساتھ اپنی شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور عالمی بینک نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے ڈائنامک رجسٹری سروے متعارف کرانے کے لیے عالمی بینک کی جانب سے پیش کردہ تکنیکی معاونت کا بھی خیر مقدم کیا۔
وفاقی وزیر نے عالمی بینک کے وفد کو آگاہ کیا کہ مالی معاونت کی تقسیم ایک ارتقائی عمل ہے اور بی آئی ایس پی انفرادی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے نقد رقم کی تقسیم کا نیا طریقہ متعارف کرا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اس اقدام کو بعض منتخب اضلاع میں پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرایا جائے گا جسے بعد ازاں ملک بھر میں مزید وسعت دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ اقدام مستحق خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک بڑی کامیابی ثابت ہو گا اور وہ موصول ہونے والی رقم میں اپنی بچت کی منصوبہ بندی بھی کر سکیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے ایس ایم ایس سروس شروع کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے فون پر ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی تازہ ترین معلومات حاصل کر سکیں۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے معاشرے کے پسماندہ اور کمزور طبقات کے لیے مساوی مواقعوں کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کو بااختیار بنانے کے لیے بی آئی ایس پی نے انہیں پی ایم ٹی سکور کی حد کی چھوٹ دیتے ہوئے بینظیر کفالت کے نیٹ ورک میں شامل کیا ہے۔ BISP کفالت نیٹ میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی شمولیت کا باقاعدہ آغاز رواں ہفتے کے آخر تک کیا جائے گا۔
جناب امجد ظفر خان، سینئر سوشل پروٹیکشن سپیشلسٹ نے حالیہ سیلاب کے دوران بی آئی ایس پی کی کارکردگی کو سراہا۔ امجدظفر نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی سیفٹی نیٹس نے معیشت کو مختلف طریقوں سے سہارا دیا ہے۔ مزید برآں، عالمی بینک کی نمائندہ محترمہ میلس U.Guven نے سماجی تحفظ کے لیے بی آئی ایس پی کے مختلف اقدامات کو سراہا اور زور دیا کہ ان کاوشوں کو بڑے پیمانے پر نمایا ں کیا جانا چاہیے تاکہ دیگر ترقی پذیر ممالک اس پروگرام سے سیکھ سکیں۔
