اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے دعوی کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری مرحلہ وار انتخابات کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ ن واضح کامیابی حاصل کرے گی اور حکومت بھی اسی جماعت کی بنے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام نے ترقی، استحکام اور پاکستان سے محبت کے جذبے کے تحت مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا ہے۔ خدمت کے میدان میں کوئی بھی ن لیگ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصا میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے دعوی کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور انتخابات کے حتمی نتائج بھی پارٹی کے حق میں آئیں گے۔ ان کے بقول، آزاد کشمیر کے ہر علاقے سے شیر کی آواز آ رہی ہے اور یہی عوامی حمایت حکومت سازی میں تبدیل ہوگی۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس تعمیر و ترقی کا کوئی مثر منشور موجود نہیں، جبکہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام کو اپنی سیاست کا محور بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ووٹرز کو متحرک کیا اور عوام نے بھرپور انداز میں انتخابی عمل میں حصہ لیا۔
انہوں نے مہاجرین کی نشستوں سے متعلق اٹھائے جانے والے اعتراضات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض سازشی عناصر بلاجواز سوالات اٹھا رہے ہیں، تاہم عوام ایسے بیانیے کو مسترد کر دیں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشمیریوں کے آبا و اجداد نے آزادی اور اپنے حقِ خودارادیت کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا اور کشمیر پارٹی کی پالیسی کی اولین ترجیح رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان سے گہری محبت رکھتے ہیں اور یہی جذبہ انتخابات میں بھی نمایاں نظر آ رہا ہے۔آزاد جموں کشمیر میں انتخابات مرحلہ وار منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن،استحکام پاکستان پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی آزاد کشمیر اور دیگر جماعتیں انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ انتخابات کے حتمی نتائج کے بعد آزاد کشمیر کی نئی قانون ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت یا اتحاد حکومت تشکیل دے گا، جبکہ سیاسی قیادت کی جانب سے کامیابی کے دعوے انتخابی مہم کا معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
